جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ ﳔ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمِهَادُ‘‘(رعد:۱۸)
کا حال یہ ہوگا کہ) اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور اِس کے ساتھ ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے۔ ان کے لئے برا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
اورحضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو!تم حساب لئے جانے سے پہلے اپنے آپ کا محاسبہ کر لو اور (اعمال کا) وزن کئے جانے سے پہلے اپنے آپ (کے اعمال) کا وزن کر لو اور اس دن کی بڑی پیشی کی تیاری کر لو جس دن تم سب (اللّٰہ کی بارگاہ میں ) اس حال میں پیش کئے جاؤ گے کہ تم میں سے کسی کی کوئی پوشیدہ حالت چُھپ نہ سکے گی۔( مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الزہد، کلام عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ، ۸/۱۴۹، الحدیث: ۱۸)
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے اور آخرت میں ہونے والے حساب کی ابھی سے تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ-فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ(۱۹) اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ(۲۰)
ترجمۂکنزالایمان: تو وہ جو اپنا نامۂ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا لو میرے نامۂ اعمال پڑھو ۔مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو بہرحال جسے اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: لو میرا نامہ اعمال پڑھ لو۔ بیشک مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو ملنے والا ہوں ۔