اَمْ تَسْــٴَـلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ(۴۶)
ترجمۂکنزالایمان: یا تم ان سے اجرت مانگتے ہوکہ وہ چٹّی کے بوجھ میں دبے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یا کیا تم ان سے اجرت مانگتے ہو کہ وہ تاوان کے بوجھ میں دبے ہوئے ہیں ۔
{اَمْ تَسْــٴَـلُهُمْ اَجْرًا: یا کیا تم ان سے اجرت مانگتے ہو۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا آپ رسالت کی تبلیغ پر ان سے کوئی اجرت مانگتے ہیں کہ انہیں اپنے مالوں سے وہ تاوان ادا کرنابھاری پڑ رہا ہے اور وہ اسی تاوان کے بھاری بوجھ کے نیچے دبے ہونے کی وجہ سے ایمان نہیں لارہے اور جب ایسابھی نہیں ہے تو پھر ایمان قبول کرنے سے اِعراض کرنے کا ان کے پاس کیا عذر ہے۔( خازن، ن، تحت الآیۃ: ۴۶، ۴/۳۰۱، روح البیان، ن، تحت الآیۃ: ۴۶، ۱۰/۱۲۶، ملتقطاً)
اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ(۴۷)
ترجمۂکنزالایمان: یا ان کے پاس غیب ہے کہ وہ لکھ رہے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یا ان کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ لکھ رہے ہیں ۔
{اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ: یا ان کے پاس غیب کا علم ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا ان کفار کے پاس لوحِ محفوظ ہے جس میں آئندہ ہونے والے واقعات کی خبریں ہیں اور یہ لوگ اس میں موجودباتیں لکھ رہے ہیں اور ا س بنا ء پر آپ سے جھگڑ رہے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کفر کرنے کے باوجود اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایمان والوں سے اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں ؟( تفسیر طبری، القلم، تحت الآیۃ: ۴۷، ۱۲/۲۰۲)
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ