سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شانِ محبوبیّت:
اس سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فضیلت ،شانِ محبوبیّت اور بارگاہِ الٰہی میں آپ کا مقام معلوم ہوتا ہے کہ ولید نے اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں ایک جھوٹا کلمہ کہا تھا کہ (مَعَاذَاللّٰہ) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مجنون ہیں ، اس کے جواب میں اللّٰہ تعالیٰ نے اس کے دس وہ عیوب ظاہر فرمادیئے جو واقعی ا س میں موجود تھے اور ان میں سے ایک عیب یعنی حرامی ہونا ایسا تھا کہ یہ اس آیت کے نازل ہونے سے ہی معلوم ہوا ورنہ اب تک ا س کے بارے میں سب یہی سمجھتے تھے کہ وہ خاندانِ قریش سے ہے ۔
نوٹ:یاد رہے کہ یہاں تک 9 عیب بیان ہوئے جبکہ دسویں عیب کا ذکر اگلی آیات میں ہے۔
اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ(۱۴) اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(۱۵)
ترجمۂکنزالایمان: اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے۔ جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں کہتا ہے اگلوں کی کہانیاں ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس بنا پر (بات نہ مانو) کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے۔ جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں ۔
{اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَ: کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے۔} اس آیت کا تعلق اسی سورت کی آیت نمبر 10 سے بھی ہو سکتا ہے۔اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہو گا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ان عیبوں کے ہونے کے ساتھ آ پ اس کافر کی بات نہ مانیں کہ وہ مالدار اور بیٹوں والا ہے۔اور اس آیت کا تعلق اس کے بعد والی آیت سے بھی ہو سکتا ہے۔اس صورت میں ا س آیت اور اس کے بعد والی آیت کا معنی یہ ہو گا کہ وہ کافرمال اور اولاد والا ہے ، تو اسے چاہئے تھا کہ ان نعمتوں کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا اور ایمان لاتا لیکن ا س لعین نے شکر کرنے کی بجائے مال اور