بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بھلائی سے روکنے سے مقصود اسلام سے روکنا ہے کیونکہ ولید بن مغیرہ اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں سے کہتا تھا کہ اگر تم میں سے کوئی اسلام میں داخل ہوا تو میں اُسے اپنے مال میں سے کچھ نہ دوں گا۔
(2)… لوگوں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھنے والا ہے۔
(3)…سخت گناہگار ہے۔(خازن ، ن ، تحت الآیۃ : ۱۲ ، ۴/۲۹۵ ، صاوی، القلم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۶/۲۲۱۳، قرطبی، القلم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۹/۱۷۴، الجزء الثامن عشر، تفسیر کبیر، القلم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۱۰/۶۰۴، ملتقطاً)
عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ(۱۳)
ترجمۂکنزالایمان: دُرُشت خُو اس سب پر طُرّہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: سخت مزاج، اس کے بعد ناجائز پیداوار ہے۔
{عُتُلٍّۭ: سخت مزاج۔} اس آیت میں اس کافر کے دو عیب بیان کئے گئے ہیں کہ وہ طبعی طور پر بد مزاج اور بد زبان ہے اور ان تمام عیوب سے بڑھ کر ا س کاعیب یہ ہے کہ وہ ناجائز پیداوار ہے تو اس سے خبیث اَفعال کے صادر ہونے میں کیا تعجب ہے۔
ابو البرکات عبداللّٰہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے اپنی ماں سے جا کر کہا : محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے میرے بارے میں دس باتیں بیان فرمائی ہیں ،ان میں سے 9 کے بارے میں تومیں جانتا ہوں کہ وہ مجھ میں موجود ہیں لیکن ان کی یہ بات کہ میں ناجائز پیداوار ہوں ، اس کا حال مجھے معلوم نہیں ، اب تو مجھے سچ سچ بتادے (کہ اصل حقیقت کیا ہے)ورنہ میں تیری گردن ماردوں گا۔ اِس پر اُس کی ماں نے کہا کہ ’’تیرا باپ نامرد تھا ،ا س لئے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ جب وہ مرجائے گا تو اس کا مال دوسرے لوگ لے جائیں گے، تو(اس چیز سے بچنے کے لئے ) میں نے ایک چَرواہے کو اپنے پاس بلالیا اورتو اس چرواہے کی اولاد ہے۔( مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۱۲۶۷)