Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
287 - 881
 تاکہ کسی طرح ان کی بات کو سچ مان لیا جائے اور ان کے ا س عمل کی وجہ سے لوگوں  کی نظروں  میں  ان کی جو عزت اور مقام بنتا ہے وہ سب اچھی طرح جانتے ہیں  ۔زیادہ قسمیں  کھانے اور قسموں  کو دھوکا دینے اور فساد برپا کرنے کا ذریعہ بنانے سے منع کرتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ‘‘(بقرہ:۲۲۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اپنی قسموں  کی وجہ سے اللّٰہ کے نام کو آڑ نہ بنالو۔
	اور ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ-وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ‘‘(نحل:۹۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورتم اپنی قسموں  کو اپنے درمیان دھوکے اور فساد کا ذریعہ نہ بناؤورنہ قدم ثابت قدمی کے بعد پھسل جائیں  گے اور تم اللّٰہ کے راستے سے روکنے کی وجہ سے سزا کا مزہ چکھو گے اور تمہارے لئے بہت بڑا عذاب ہوگا۔
	اورقسموں  کے بدلے دنیا کا ذلیل مال لینے والوں  کے بارے ارشاد فرماتا ہے: ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ‘‘(ال عمران:۷۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو اللّٰہ کے وعدے اور اپنی قسموں  کے بدلے تھوڑی سی قیمت لیتے ہیں ، اِن لوگوں کے لئے آخرت میں  کچھ حصہ نہیں  اور اللّٰہ قیامت کے دن نہ توان سے کلام فرمائے گااور نہ ان کی طرف نظر کرے گااور نہ انہیں  پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
	اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں  کو ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے،اٰمین۔
هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ(۱۱)