اور برائی ہوتی دیکھ کر اس سے نہ روکنے والوں کے بارے میں حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’اللّٰہ تعالیٰ کی حدود میں نرمی برتنے والے اور ان میں مبتلاء ہونے والے کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے کشتی میں قرعہ اندازی کی تو بعض کے حصے میں نیچے والا حصہ آیا اور بعض کے حصے میں اوپر والا،نیچے والوں کو پانی کے لئے اوپر والوں کے پاس جانا ہوتا تھا،اوپر والوں (کو نیچے والوں کے پانی لے کر گزرنے کی وجہ سے اَذِیَّت پہنچی اور انہوں ) نے اسے زحمت شمار کیا تو نیچے والوں (میں سے ایک شخص) نے کلہاڑہ لیا اور کشتی کے نچلے حصے میں سوراخ کرنے لگا،اوپر والے اس کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا:میری وجہ سے تمہیں تکلیف ہوتی تھی اور پانی کے بغیر گزارا نہیں (اس لئے میں کشتی میں سوراخ کر رہا ہوں تاکہ مجھے پانی حاصل ہو جائے اور تمہاری تکلیف دور ہوجائے) پس اگر انہوں نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا تو اسے (ڈوبنے سے) بچا لیا اور خود بھی بچ جائیں گے اور اگر اسے چھوڑ دیا (اور سوراخ کرنے سے منع نہیں کیا) تو اسے ہلاک کر یں گے اور اپنی جانوں کو ہلاک کر بیٹھیں گے۔( بخاری، کتاب الشہادات، باب القرعۃ فی المشکلات، ۲/۲۰۸، الحدیث: ۲۶۸۶)
اورحضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے،رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’عنقریب تم پر ایسے بادشاہ مُسلَّط ہوں گے جن سے تم نیکی بھی دیکھو گے اور برائی بھی،تو جس نے ان کی برائی کو بُرا کہا وہ بَری ہوا اور جس نے (ان کی بُرائی کو برا کہنے کی قدرت نہ رکھنے وجہ سے اس برائی کو دل سے) برا سمجھاوہ بھی (ان کی برائی میں شریک ہونے کے وبال سے) سلامت رہا البتہ جو (دل سے ان کی برائی پر) راضی ہوا اور اس نے (ان کی) پیروی کی تو وہ ہلاک ہوا۔( ترمذی، کتاب الفتن، ۷۸-باب، ۴/۱۱۷، الحدیث: ۲۲۷۲)
اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور اپنے دین پر پختگی اور اس کے احکامات پر مضبوطی سے عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
نوٹ:کفار و مشرکین سے تعلقات رکھنے کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی جلد نمبر 14میں موجود اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے رسالے ’’اَلْمَحَجَّۃُ الْمُؤْتَمِنَہْ فِیْ آیَۃِ الْمُمْتَحِنَہْ ‘‘ (غیر مسلموں سے تعلقات رکھنے کی شرعی حدود کا تفصیلی بیان) کا مطالعہ فرمائیں ۔