ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۲۹)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ وہی رحمن ہے ہم اس پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ کیا تو اب جان جاؤ گے کون کھلی گمراہی میں ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: وہی رحمن ہے ،ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اسی پر بھروسہ کیا تو تم جلدجان جاؤ گے کہ کون کھلی گمراہی میں ہے؟
{قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ: تم فرماؤ: وہی رحمن ہے۔ }ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان مشرکین سے فرما دیں کہ جس کی طرف ہم تمہیں دعوت دیتے ہیں وہی رحمن ہے ،ہم اس پر ایمان لائے اور اسی کی عبادت کرتے ہیں اور تم اس کے ساتھ کفر کرتے ہو اور ہم نے اسی پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے تمام اُمور اس کے سپرد کر دئیے ہیں اورجب تم پر عذاب نازل ہو گا تو تم جلد جان جاؤ گے کہ ہم گمراہی میں تھے یا تم۔( خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۲۹، ۴/۲۹۲، مدارک، الملک، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۱۲۶۵، ملتقطاً)
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠(۳۰)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں دھنس جائے تو وہ کون ہے جو تمہیں پانی لادے نگاہ کے سامنے بہتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: بھلا دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں دھنس جائے تو وہ کون ہے جو تمہیں نگاہوں کے سامنے بہتاہواپانی لادے؟
{قُلْ: تم فرماؤ۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے دلیل کے طور پر اپنی ایک نعمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان مشرکین سے فرما دیں کہ اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں دھنس جائے اور اتنی گہرائی