Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
262 - 881
تعالیٰ ہی کے پاس ہے ،میں  تو عذاب اورقیامت کے آنے کا تمہیں  ڈر سناتا ہوں  اور مجھے اتنے ہی کام کا حکم دیاگیا ہے، اسی سے میرا فرض ادا ہوجاتا ہے ا س لئے وقت کا بتانا میری ذمہ داری نہیں ۔( مدارک، الملک، تحت الآیۃ: ۲۵-۲۶، ص۱۲۶۵، روح البیان، الملک، تحت الآیۃ: ۲۵-۲۶، ۱۰/۹۵-۹۶، ملتقطاً)
{قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ: تم فرماؤ: یہ علم تو اللّٰہ ہی کے پاس ہے۔} یاد رہے کہ اس سے یہ ثابت نہیں  ہو تا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو قیامت کا علم نہیں  دیا کیونکہ یہاں  یہ نہ فرمایا کہ مجھے علم نہیں  دیا گیا بلکہ یہ فرمایا کہ یہ حقیقی و ذاتی علم تو اللّٰہ ہی کے پاس ہے،اور ایسے انداز میں  بات اس وقت بھی کہی جاتی جب معلومات ہونے کے باوجودبتانا نہ ہو۔حق یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو قیامت کا علم دیا ہے اور اس پر وہ تمام اَحادیث شاہد ہیں  جن میں  آپ نے قیامت کی علامات ارشاد فرمائیں  حتّٰی کہ سال بتانے کے علاوہ وقت ،دن اور مہینہ بھی بتا دیا۔
فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓــٴَـتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ(۲۷)
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب اسے پاس دیکھیں  گے کافروں  کے منہ بگڑ جائیں  گے اور ان سے فرمایا جائے گایہ ہے جو تم مانگتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب وہ اسے قریب دیکھیں  گے توکافروں  کے منہ بگڑ جائیں  گے اور (ان سے) کہا جائے گا: یہی ہے وہ عذاب جو تم مانگتے تھے۔
{فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً: پھر جب وہ اسے قریب دیکھیں  گے۔} اس آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب کفار آخرت میں  ا س عذاب کو اپنے قریب دیکھیں  گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو کافروں  کے چہرے سیاہ پڑ جائیں  گے اور وحشت و غم سے ان کی صورتیں  خراب ہوجائیں  گی اورجہنم کے فرشتے ان سے کہیں  گے یہ وہ عذاب ہے جو مذاق کے طور پرتم مانگتے تھے