ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں پھیلایا اور اسی کی طرف اٹھائے جاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تمہیں اکٹھا کیا جائے گا۔
{قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ: تم فرماؤ: وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ فرما دیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے گفتگومیں تمہاری زبانوں ،تمہارے رنگوں ، تمہارے لباسوں ،تمہاری شکلوں اورصورتوں کے مختلف ہونے کے ساتھ تمہیں زمین کے کونے کونے میں پھیلایا اور تم (قیامت کے دن اپنے اعمال کے) حساب اور (ان کی) جزا کے لئے اسی کی طرف اٹھائے جاؤ گے ۔( ابن کثیر، الملک، تحت الآیۃ: ۲۴، ۸/۲۰۲، مدارک، الملک، تحت الآیۃ: ۲۴، ص۱۲۶۵، ملتقطاً)
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۲۵)قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ۪-وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(۲۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو۔تم فرماؤ یہ علم تو اللّٰہ کے پاس ہے اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ کہتے ہیں : یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو(تو بتاؤ)۔تم فرماؤ: یہ علم تو اللّٰہ ہی کے پاس ہے اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔
{وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ: اور وہ کہتے ہیں : یہ وعدہ کب آئے گا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار مسلمانوں سے مذاق اور محض دل لگی کے طور پر کہتے تھے کہ اگر تم قیامت یا عذاب کی خبر دینے میں سچے ہو، تو بتاؤ ان کا ظہور کب ہو گا؟اللّٰہ تعالیٰ نے ان کا جواب دیتے ہوئے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے مخلوق میں سب سے بڑے عالِم! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ مشرکین سے فرما دیں کہ اس کا علم تو اللّٰہ