لئے حضرتِ نوح اور حضرتِ لوط عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کافرہ بیویوں کی مثال بیان کی گئی اور مسلمانوں کے لئے فرعون کی مومنہ بیوی حضرت آسیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی مثال بیان کی گئی اور یہ سورت اللّٰہ تعالیٰ کے علم کے اِحاطے ، تدبیر اور ا س بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں جو عجائبات چاہے ظاہر کرتا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ٘- وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ(ﰳ۱)
ترجمۂکنزالایمان: بڑی برکت والا ہے وہ جس کے قبضہ میں سارا مُلک اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بڑی برکت والا ہے وہ جس کے قبضے میں ہی ساری بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔
{تَبٰرَكَ: وہ بڑی برکت والا ہے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ اپنی ذات میں ،صفات میں اور اَفعال میں اَزل سے لے کر اَبد تک مخلوق کی صفات سے پاک ہے اور صرف اسی کے قبضۂ قدرت میں تمام اُمور میں ہر طرح کا تَصَرُّف ہے ،لہٰذا وہ جس چیز کا چاہے حکم دے اور جس چیز سے چاہے منع کر دے ،جو چاہے عطا کرے اور جو چاہے نہ دے،جسے چاہے زندگی دے اور جسے چاہے موت دے،جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلت دے،جسے چاہے غریب بنا دے اور جسے چاہے امیر کر دے،جسے چاہے بیمار کر دے اور جسے چاہے شفا عطا کر دے،جسے چاہے قریب کر دے اور جسے چاہے دور کر دے ،جسے چاہے آباد کر دے اور جسے چاہے برباد کر دے،جسے چاہے توڑ دے اور جسے چاہے ملا دے اور وہ ہر ا س