Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
233 - 881
پارہ نمبر…29
سورۂ ملک
 سورۂ ملک کا تعارف
مقامِ نزول:
	سورۂ ملک مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الملک، ۴/۲۸۹)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	 اس سورت میں  2 رکوع، 30 آیتیں  ہیں ۔
سورۂ ملک کے اَسماء اور ان کی وجہِ تَسْمِیَہ :
	اس سورت کے متعددنام ہیں  جیسے اس کی پہلی آیت میں  ملک یعنی سلطنت اور بادشاہت کا ذکر ہے ا س مناسبت سے اسے سورۂ ملک کہتے ہیں ۔اس کی پہلی آیت کے شروع میں  لفظ ’’تَبٰرَكَ‘‘ ہے ا س مناسبت سے اسے سورۂ تبارک کہتے ہیں ۔یہ سورت عذابِ قبر سے نجات دینے والی، عذاب سے بچانے والی اور عذاب کو روکنے والی ہے اس لئے اسے سورۂ مُنْجِیَہْ،سورۂ وَاقِیَہْ اورسورۂ مَانِعَہْکہتے ہیں ۔یہ سور ت اپنے پڑھنے والے کے بارے میں  جھگڑا کرے گی ا س لئے اسے سورۂ مُجَادِلَہْ کہتے ہیں  اور یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرے گی اس لئے اسے سورۂ شَافِعَہْ کہتے ہیں ۔
سورۂ ملک کے فضائل:
	 اَحادیث میں  سورۂ ملک کے بکثرت فضائل بیان ہوئے ہیں  اوران میں  سے 4فضائل درج ذیل ہیں ۔
(1) …حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ رسولُ  اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کسی