حضرت نوح اور حضرت لوط عَلَیْہِ مَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیویوں کا حال:
حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیوی کانام واہلہ تھا،یہ اپنی قوم سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں کہتی تھی کہ وہ مجنون ہیں اور حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیوی کا نام و اعلہ تھا،یہ اپنا نفاق چھپاتی تھی۔( خازن، التحریم، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴/۲۸۸)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایمان کے بغیر بزرگوں کی صحبت قیامت میں فائدہ نہیں دے گی نیز یہ کہ کفار کے لئے نبی کا رشتہ یا نبی کا نسب کام نہیں آتا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ قیامت میں ہر شخص اس کے ساتھ ہو گا جس سے دنیا میں محبت کرتا تھا۔
وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَۘ-اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور اللّٰہ مسلمانو ں کی مثال بیان فر ماتا ہے فرعون کی بی بی جب اس نے عرض کی اے میرے رب میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ نے مسلمانو ں کے لئے فرعون کی بیوی کو مثال بنا دیا جب اس نے عرض کی، اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات عطا فرما۔
{وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ: اور اللّٰہ نے مسلمانو ں کیلئے فرعون کی بیوی کو مثال بنادیا۔} اس سے پہلی آیت میں کافروں کے لئے مثال بیان فرمائی گئی اور اس آیت میں مسلمانوں کے لئے مثال بیان فرمائی جا