(2)… مُتَّقی مومن قیامت کے دن حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ ہوں گے۔
(3)…قیامت کا دن نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اوران کے ساتھ والوں کی عزت کا ، جبکہ کافروں کی رُسوائی کا دن ہو گا۔
(4)… مومن اگرچہ گنہگار ہو لیکن اِنْ شَآ ءَ اللّٰہ آخرت کی رسوائی سے محفوظ رہے گا، اگر اسے سزا بھی دی جائے گی تو اس طرح کہ اس کی رسوائی نہ ہو۔
(5)…ابتداء میں پل صراط پر منافقوں کو نور ملے گا لیکن جب درمیان میں پہنچیں گے تو وہ نور بجھ جائے گا۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْؕ-وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: اے غیب بتانے والے (نبی) کافروں پر اور منافقوں پر جہاد کرو اور ان پر سختی فرماؤ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا ہی بُرا انجام۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے نبی!کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
{یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ: اے نبی!کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ حکمت کے تقاضوں کے مطابق اورموقع محل کی مناسبت سے کافروں پر تلوار سے جبکہ منافقوں پر سخت کلامی اور مضبوط دلائل کے ساتھ جہاد فرمائیں اور ان دونوں گروہوں پر سختی کریں ،ان کاٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی بری لوٹنے کی جگہ ہے ۔( مدارک، التحریم، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۲۵۹، جلالین، التحریم، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۲۴۸، ملتقطاً)