Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
220 - 881
زیادہ سمجھا اور حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دِلجوئی اور رضا طلبی مُقَدّم جانی ،لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں  طلاق نہ دی۔( خزائن العرفان، التحریم، تحت الآیۃ: ۵، ص۱۰۳۷، ملخصاً)
 اچھی بیوی کے اوصاف:
	 اس آیت سے معلوم ہوا کہ بیوی وہ اچھی ہے جو اللّٰہ تعالیٰ اوراس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرمانبردار ، اورشوہر کی اطاعت گزار ہونیزعبادت گزار اور گناہوں  سے بچنے والی ہو اگرچہ وہ غریب ہو،لہٰذا نکاح کے لئے صرف عورت کا حسن اور اس کی مالداری نہ دیکھی جائے بلکہ اس کی دینداری دیکھی جائے اور اسے ہی ترجیح دی جائے۔ حدیثِ پاک میں  بھی اس کا حکم دیاگیا ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول  اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’عورت سے نکاح چار باتوں  کی وجہ سے کیا جاتا ہے (یعنی نکاح میں  ان کا لحاظ ہوتا ہے) (1) مال،(2) حسب نسب،(3) جمال، (4) دین، اور تم دین والی کو ترجیح دو۔( بخاری، کتاب النکاح، باب الاکفاء فی الدین، ۳/۴۲۹، الحدیث: ۵۰۹۰)
	اور حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدار ِرسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کہ جو کسی عورت سے اُس کی عزت کی بنا پر نکاح کرے، اللّٰہ تعالیٰ اس کی ذلت میں  اضافہ کرے گا اور جو کسی عورت سے اُس کے مال کے سبب نکاح کرے گا، اللّٰہ تعالیٰ اُس کی      محتاجی ہی بڑھائے گا اورجو اُس کے حسب کی وجہ سے نکاح کرے گا تو اُس کے کمینہ پن میں  زیادتی فرمائے گا اور جو اس لیے نکاح کرے کہ اِدھر اُدھر نگاہ نہ اُٹھے اور پاکدامنی حاصل ہو یا صلہ رحمی کرے تو اللّٰہ تعالیٰ اس مرد کے لیے اُس عورت میں اور عورت کے لیے مرد میں  برکت دے گا ۔( معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: ابراہیم، ۲/۱۸، الحدیث: ۲۳۴۲)
	اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  نیک اور دیندار عورت سے نکاح کرنے اور دوسری عورتوں  کے مقابلے میں  دیندار عورت کو ترجیح دینے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ