وہاں حقیقی مدد مراد ہے، لہٰذا آیات میں تعارُض نہیں ۔
عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓىٕبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓىٕحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا(۵)
ترجمۂکنزالایمان: ان کا رب قریب ہے اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں کہ اُنھیں تم سے بہتر بیبیاں بدل دے اطاعت والیاں ایمان والیاں ادب والیاں توبہ والیاں بندگی والیاں روزہ داریں بیاہیاں اور کنواریاں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر وہ (نبی) تمہیں طلاق دے دیں توقریب ہے کہ ان کا رب انہیں تم سے بہتر بیویاں بدل دے جو اطاعت والیاں ، ایمان والیاں ، ادب والیاں ، توبہ کرنے والیاں ،عبادت گزار،روزہ دار ، بیاہیاں اور کنواریاں ہوں ۔
{اِنْ طَلَّقَكُنَّ: اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں ۔} ارشاد فرمایا کہ اے میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بیویو! اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں تو ان کا رب عَزَّوَجَلَّ اس بات پر قادر ہے کہ انہیں تم سے بہتر بیویاں عطا کر دے جن کا وصف یہ ہو گا کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والیاں ،اخلاص کے ساتھ اس کی وحدانیَّت پر ایمان رکھنے والیاں ، اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرمانبردار اور اُن کی رضا جُو ہوں گی،کثرت سے توبہ کرنے والیاں ،کثرت سے عبادت کرنے والیاں ،روزہ دار، بیاہیاں اور کنواریاں ہوں گی۔( تفسیر کبیر، التحریم، تحت الآیۃ: ۵، ۱۰/۵۷۱، خازن، التحریم، تحت الآیۃ: ۵، ۴/۲۸۶، مدارک، التحریم، تحت الآیۃ: ۵، ص۱۲۵۷-۱۲۵۸، ملتقطاً)
یہ فرما کر در اصل ازواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو ڈرایا گیاہے کہ اگر اُنہوں نے سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو آزُرْدَہ کیا اور حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں طلاق دی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللّٰہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے دوسری بہتر بیویاں عطا فرما دے گا۔ اس ڈرانے سے ازواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ مُتأثّر ہوئیں اور اُنہوں نے سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت کے شرف کو ہر نعمت سے