سورۂ تحریم
سورۂ تحریم کا تعارف
مقامِ نزول:
سورئہ تحریم مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ التحریم، ۴/۲۸۲)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 2رکوع،12آیتیں ہیں ۔
’’ تحریم ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
تحریم کا معنی ہے کسی چیز کو حرام ٹھہرانا اور اس سورت کا یہ نام اس کی پہلی آیت کے کلمہ ’’لِمَ تُحَرِّمُ ‘‘ سے ماخوذ ہے۔
سورۂ تحریم کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں وہ اَحکام بیان کئے گئے ہیں جن کا تعلق تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے ساتھ بعض واقعات سے ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے ۔
(1)…حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اَزواجِ مُطَہَّرات کی خوشنودی کی خاطر اپنے اوپر شہد کھانا یا حضرت ماریہ قبطیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو اپنے اوپر حرام کر لیاتھا چنانچہ اس سورت کی ابتداء میں انتہائی لطف و کرم والے انداز میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا گیا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ بات آپ کی شان کے لائق نہیں کہ آپ اَزواجِ مُطَہَّرات کو راضی کریں بلکہ اَزواجِ مُطَہَّرات کو چاہئے کہ وہ آپ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔
(2)…حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ایک زوجہ محترمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ