Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
209 - 881
مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے تو اللّٰہ سے ڈرو اے عقل والو وہ جو ایمان لائے ہو بے شک اللّٰہ نے تمہارے لیے عزت اُتاری ہے۔وہ رسول کہ تم پر اللّٰہ کی روشن آیتیں  پڑھتا ہے تاکہ اُنھیں  جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اندھیریوں  سے اُجالے کی طرف لے جائے اور جو اللّٰہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے وہ اسے باغوں  میں  لے جائے گا جن کے نیچے نہریں  بہیں  جن میں  ہمیشہ ہمیشہ رہیں  بے شک اللّٰہ نے اس کے لیے اچھی روزی رکھی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے تو اللّٰہ سے ڈرو، اے عقل والو جو ایمان لائے ہو، بیشک اللّٰہ نے تمہاری طرف نصیحت اتاری۔ (نیز) رسول (بھیجا) جوتم پر اللّٰہ کی روشن آیتیں  پڑھتا ہے تاکہ وہ ان لوگوں  کو اندھیروں  سے نورکی طرف لے جائے جو ایمان لائے اور انہوں  نے اچھے کام کئے اور جو اللّٰہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو اللّٰہ اسے ان باغوں  میں  داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں  بہتی ہیں ، ان میں  ہمیشہ ہمیشہ رہیں  گے، بیشک اللّٰہ نے اس کے لیے اچھی روزی رکھی۔
{اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا: اللّٰہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔} یعنی دُنْیَوی عذاب کے ساتھ ساتھ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں  سخت عذاب تیار کر رکھا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرو اے عقل والو جو ایمان لائے ہو اور سابقہ جھٹلانے والی امتوں  کے حال اور ان پر نازل ہونے والے عذاب سے عبرت حاصل کرو اور اللّٰہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سے بچو۔( روح البیان، الطلاق، تحت الآیۃ: ۱۰، ۱۰/۴۰-۴۱)
{قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًا: بیشک اللّٰہ نے تمہاری طرف نصیحت اتاری۔} آیت کے اس حصے اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو!بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے تمہاری طرف نصیحت اتاری اور وہ نصیحت قرآن ہے اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ ذکر سے مراد رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں  اور اگلی آیت کے شروع کا لفظ اسی ذکر کی تفسیر