بچے کو دودھ پلانے سے متعلق شرعی مسائل:
آیت کی مناسبت سے بچے کو دودھ پلانے سے متعلق چارشرعی احکام ملاحظہ ہوں ،
(1)… بچے کو دودھ پلانا ماں پر واجب نہیں ، باپ کی ذمہ داری ہے کہ اجرت دے کر دود ھ پلوائے لیکن اگر بچہ ماں کے سوا کسی اور عورت کا دود ھ نہ پئے، یا باپ فقیر ہو تواس حالت میں ماں پر دود ھ پلانا واجب ہوجاتا ہے، بچے کی ماں جب تک اس کے باپ کے نکاح میں ہو یا طلاقِ رجعی کی عدت میں ہو تو ایسی حالت میں اسے دود ھ پلانے کی اجرت لینا جائز نہیں ، عدت کے بعد لینا جائز ہے ۔
(2)… کسی عورت کو مُعَیَّن اجرت پر دود ھ پلانے کیلئے مقرر کرنا جائز ہے۔
(3)… اجرت پر دود ھ پلانے کیلئے غیر عورت کی بہ نسبت ماں زیادہ مستحق ہے۔
(4)… اگر ماں زیادہ اُجرت طلب کرے تو پھر غیر عورت کو مقرر کرنے میں اصلاً کوئی حرج نہیں ۔
{لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ: مالی وسعت رکھنے والے کو چاہئے کہ اپنی گنجائش کے مطابق خرچ کرے۔} یعنی مالی وسعت رکھنے والا اپنی گنجائش کے مطابق اور تنگدستی میں مبتلا شخص اپنی حیثیت کے مطابق طلاق والی اور دود ھ پلانے والی عورتوں کو خرچہ دے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ہرجان پر اسی قابل بوجھ رکھتا ہے جتنا اسے رزق دیا ہے اور تنگدست آدمی خرچ کرنے سے ڈرے نہیں ، جلد ہی اللّٰہ تعالیٰ معاش کی تنگی کے بعد اسے آسانی عطافرمادے گا۔
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًاۙ-وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا(۸)فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا(۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور کتنے ہی شہر تھے جنھوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے سخت حسا ب لیا اور انھیں بُری مار دی۔تو انھوں نے اپنے کئے کا وبال چکھا اور اُن کے کام کا انجام گھاٹا ہوا۔