جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہے تو اسے چاہئے کہ اس میں سے خرچہ دے جو اسے اللّٰہ نے دیاہے، اللّٰہ کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتا مگر اسی قابل جتنا اسے دیا ہے، جلد ہی اللّٰہ دشواری کے بعد آسانی فرمادے گا۔
{اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ: عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی گنجائش کے مطابق۔} اس آیت میں عدت کے دوران عورت کی رہائش،اس کے اخراجات اور اگراس کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے تو اسے دودھ پلانے سے متعلق شرعی احکام بیان کئے جا رہے ہیں ،چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جن عورتوں کو تم نے طلاق دی انہیں وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو، اپنی طاقت کے مطابق انہیں رہائش دو اور انہیں یوں تکلیف نہ دو کہ ان کے مکان کو گھیر کر ان کی جگہ تنگ کر دو، یا کسی نا موافق کو ان کے ساتھ رہائش دے دو نیز تم انہیں کوئی ایسی ایذا دے کر تنگی نہ پہنچاؤ کہ وہ گھر سے نکلنے پر مجبور ہوجائیں اور اگر طلاق والی عورتیں حمل والیاں ہوں تو ان پر شریعت کے مطابق خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ بچہ پیدا کر دیں کیونکہ اُن کی عدت بچہ پیداہونے پر ہی پوری ہوگی، پھر اگر وہ تمہارے لیے بچے کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کے کام کی اجرت دو اور اجرت سے متعلق آپس میں اچھے طریقے سے مشورہ کرلو اور یہ خیال رکھو کہ نہ مرد عورت کے حق میں کوتاہی کرے، نہ عورت اِس معاملہ میں سختی کرے، پھر اگر تم آپس میں یہ معاملہ طے کرنے میں دشواری سمجھو اوربچے کی ماں کسی دوسری عورت کے برابر اُجرت پر راضی نہ ہوبلکہ زیادہ اجرت کا مطالبہ کرے اور باپ زیادہ دینا نہ چاہے تو قریب ہے کہ اسے کوئی اورعورت دودھ پلادے گی یعنی پھر شوہر کسی دوسری کا انتظام کرلے۔( مدارک، الطلاق، تحت الآیۃ: ۶، ص۱۲۵۳، خازن، الطلاق، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۲۸۰، ملتقطاً)
طلاق یافتہ عورت کو عدت کے دوران رہائش اور نفقہ دینے سے متعلق دو شرعی مسائل:
یہاں آیت کی مناسبت سے طلاق یافتہ عورت کو عدت کے دوران رہائش اور نفقہ دینے سے متعلق دو شرعی مسائل ملاحظہ ہوں ،
(1) … طلاق دی ہوئی عورت کو عدت پوری ہونے تک رہنے کیلئے اپنی حیثیت کے مطابق مکان دینا شوہر پر واجب ہے اور عدت کے زمانہ میں نفقہ یعنی اخراجات دینا بھی واجب ہے۔
(2)… نفقہ جیسے حاملہ عورت کو دینا واجب ہے ایسے ہی غیر حاملہ کو بھی دینا واجب ہے خواہ اسے طلاق رجعی دی ہو یا بائن۔