Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
185 - 881
بُرا انجام۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جنہوں  نے کفر کیا اور ہماری آیتوں  کو جھٹلایا، وہ لوگ آگ والے ہیں ، ہمیشہ اس میں  رہیں  گے اور وہ کیا ہی بُرا ٹھکانہ ہے۔
{وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ: اور جنہوں  نے کفر کیا اور ہماری آیتوں  کو جھٹلایا۔} یعنی وہ لوگ جنہوں  نے اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیّت اور قدرت کا انکار کر کے کفر کیا اور ہماری ان آیتوں  کو جھٹلایاجو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر دلالت کرتی ہیں ،وہ آگ والے ہیں  ،ہمیشہ اس میں  رہیں  گے اوریہ ان کا کیا ہی برا انجام ہے۔( تفسیر کبیر، التغابن، تحت الآیۃ: ۱۰، ۱۰/۵۵۴)
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ دوزخ میں  ہمیشہ رہنا اور سخت عذاب ہونا صرف کفار کے لئے ہے۔ گنہگار مومن خواہ کیساہی گنہگار ہو، اِنْ شَآئَ اللّٰہ دوزخ میں  ہمیشہ نہ رہے گااور اللّٰہ تعالیٰ اسے رسوانہ کرے گا۔
مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗؕ-وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: کوئی مصیبت نہیں  پہنچتی مگر اللّٰہ کے حکم سے اور جو اللّٰہ پر ایمان لائے اللّٰہ اس کے دل کو ہدایت فرمادے گا اور اللّٰہ سب کچھ جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہر مصیبت اللّٰہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے اور جو اللّٰہ پر ایمان لائے اللّٰہ اس کے دل کو ہدایت دیدے گا اور اللّٰہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
{مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ: ہر مصیبت اللّٰہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ موت کی، مرض کی اورمال کے نقصان وغیرہ کی، الغرض ہر مصیبت اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے اور جو اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان