وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: جس دن تمہیں اکٹھا کرے گا سب جمع ہونے کے دن وہ دن ہے ہار والوں کی ہار کھلنے کا اور جو اللّٰہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے اللّٰہ اس کی برائیاں اُتاردے گا اور اُسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں کہ وہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن وہ جمع ہونے کے دن میں تمہیں اکٹھا کرے گا ۔وہ دن (ہارنے والوں کی) ہار ظاہر ہونے کا دن ہے اور جو اللّٰہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے اللّٰہ اس سے اس کی برائیاں مٹادے گا اور اسے ان باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ،وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
{یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ: جس دن وہ جمع ہونے کے دن میں تمہیں اکٹھا کرے گا۔} اس آیت میں جمع ہونے کے دن سے مراد قیامت کادن ہے جس میں سب اوّلین وآخرین جمع ہوں گے اوریہ وہ دن ہوگاجس میں کفار کی محرومی اور مسلمانوں کی کامیابی پورے طور پر ظاہر ہو گی، کفار اپنی ہار کا اقرار کر لیں گے،نیز اس دن اللّٰہ تعالیٰ پرایمان لانے والوں اورنیک کام کرنے والوں کی برائیاں مٹادی جائیں گی اورانہیں ایسے باغوں میں داخل کیاجائے گاجن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اوروہ ان میں عارضی طور پر نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے اوریہی حقیقی اوربڑی کامیابی ہے ۔
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ آگ والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں اور کیا ہی