Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
182 - 881
(2)…کافروں  نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا۔یہ ان کی بے عقلی اور نافہمی کی انتہاء ہے، کہ انہوں  نے بشر کا رسول ہونا تو نہ مانا جبکہ پتھروں  کو خدا تسلیم کرلیا۔
(3)… برابری کا دعویٰ کرنے کے لئے نبی کو بشر کہنا کفر ہے ۔یاد رہے کہ عام محاورہ میں  یعنی بے ادبی کے انداز میں  انبیاء ِکرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بشر کہہ کر پکارنا حرام ہے اور یہ کافروں  کا طریقہ ہے۔
زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْاؕ-قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْؕ-وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: کافروں  نے بکا کہ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں  گے تم فرماؤ کیوں  نہیں  میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر تمہارے کوتک تمہیں  جتا دئیے جائیں  گے اور یہ اللّٰہ  کو آسان ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: کافروں  نے گمان کرلیا کہ انہیں  ہرگز دوبارہ زندہ نہیں  کیاجائے گا، تم فرماؤ: کیوں  نہیں  ،میرے رب کی قسم، تم ضرور دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے پھر ضرور تمہارے اعمال تمہیں بتادئیے جائیں  گے اور یہ اللّٰہ پر بہت آسان ہے۔
{زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا: کافروں  نے گمان کرلیا کہ انہیں  ہرگز دوبارہ زندہ نہیں  کیاجائے گا۔} اس آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ کافر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرتے ہیں  ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ نے یہ گمان کر لیا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز نہ اٹھائے جائیں  گے اور کبھی اپنی قبروں  سے نہ نکلیں  گے، اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کے گمان کا رد کرتے ہوئے ان سے فرما دیں  : کیوں  نہیں ، میرے رب کی قسم ،تم قیامت کے دن ضرور اٹھائے جاؤ گے ،پھر تمہارے اعمال تمہیں بتادئیے جائیں  گے تاکہ تم سے حساب لیا جائے اور تمہیں  تمہارے اعمال کی سزا دی جائے اور(یاد رکھو) قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرنا،اعمال کا حساب لینا اور ان کی جزا دینا اللّٰہ تعالیٰ پر آسان ہے کیونکہ ا س کی قدرت کامل ہے ۔( خازن، التغابن، تحت الآیۃ: ۷، ۴/۲۷۵، روح البیان، التغابن، تحت الآیۃ: ۷، ۱۰/۹-۱۰، ملتقطاً)