Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
181 - 881
ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا٘-فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُؕ-وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: یہ اس لیے کہ اُن کے پاس اُن کے رسول روشن دلیلیں  لاتے تو بولے کیا آدمی ہمیں  راہ بتائیں  گے تو کافر ہوئے اور پھرگئے اور اللّٰہ نے بے نیازی کو کام فرمایا اور اللّٰہ بے نیاز ہے سب خوبیوں  سراہا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں  لاتے تو وہ کہتے : کیا آدمی ہماری رہنمائی کریں  گے تو انہوں  نے کفر کیااور منہ پھیر لیا اور اللّٰہ نے بے پروائی فرمائی اور اللّٰہ بے پروا، ہر حمد کے لائق ہے۔
{ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ: یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں  لاتے۔} یعنی سابقہ کافروں  پر یہ دنیا کے عذاب اس لیے آئے کہ جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں  لاتے اور معجزے دکھاتے( جن سے ان کی حقّانیّت روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو جاتی) تو وہ کہتے : کیا آدمی بشر ہماری رہنمائی کریں  گے؟ تو انہوں  نے رسولوں  کا انکار کر کے کفر کیااور ایمان لانے سے پھر گئے اور اللّٰہ تعالیٰ تو ازل سے ہی ان کے ایمان اور ان کی طاعت و عبادت سے بے پرواہ ہے کیونکہ وہ اپنی مخلوق سے بے نیاز اور اپنے تمام اَفعال میں  حمد کے لائق ہے، (چنانچہ جب انہوں  نے کفر کیا اور کسی طرح ایمان نہ لائے تواس کا نتیجہ یہ ہواکہ دنیا میں  ان پر عذاب آئے)۔( خازن، التغابن، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۲۷۵، تفسیر کبیر، التغابن، تحت الآیۃ: ۶، ۱۰/۵۵۳، مدارک، التغابن، تحت الآیۃ: ۶، ص۱۲۴۷، ملتقطاً)
آیت ’’ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے تین باتیں  معلوم ہوئیں 
 (1)… ہر رسول عَلَیْہِ  السَّلَام کو معجزہ ضروردیا گیا۔یاد رہے کہ کسی کو ایک اور کسی کو زیادہ معجزات عطا کئے گئے اور ہمارے حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو سب سے زیادہ معجزے عطا ہوئے ہیں ۔