Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
150 - 881
قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠(۸)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تو ضرور تمہیں  ملنی ہے پھر اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے پھر وہ تمہیں  بتادے گا جو کچھ تم نے کیا تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: بیشک وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو پس وہ ضرور تمہیں  ملنے والی ہے پھر تم اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو ہر غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے پھر وہ تمہیں  تمہارے اعمال بتادے گا ۔
{قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ: تم فرماؤ: بیشک وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو ۔} یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،آپ ان یہودیوں  سے فرما دیں  :اپنے کفر کے وبال کی وجہ سے تم جس موت سے بھاگتے ہواس سے کسی طرح نہیں  بچ سکتے ،بے شک وہ ضرور تمہیں  آنے والی ہے اور یہ بھاگنا تمہیں  کوئی نفع نہ دے گا ، پھر مرنے کے بعد تم اس اللّٰہ تعالیٰ کی طرف پھیرے جاؤ گے جو ہر غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے اور ا س سے تمہارا کوئی حال چھپا ہوانہیں  ہے ، پھر وہ تمہیں  تمہارے اعمال بتادے گا (کہ تم نے دنیا میں  کیا اعمال کئے تھے اوروہ تمہیں  ان اعمال کی سزا دے گا)۔( تفسیر کبیر، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۸، ۱۰/۵۴۱، روح البیان، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۹، ۹/۵۱۹-۵۲۰، ملتقطاً)
 قیامت کے دن اعمال بتائے جانے کی3 صورتیں  :
	یاد رہے کہ قیامت کے دن لوگوں  کو اعمال بتا دئیے جانے کی مختلف صورتیں  ہوں  گی،ان میں  سے تین صورتیں  درج ذیل ہیں :
(1)…اعمال نامے دکھا کر اعمال بتا دئیے جائیں  گے ،چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور نامہ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس میں  جو( لکھا ہوا) ہوگا اس سے ڈررہے