Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
137 - 881
سے جنگ رہی اور کافر گروہ اُن پر غالب رہے یہاں  تک کہ انبیاء کے سردار محمدمصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ظہور فرمایا ،اس وقت ایمان دار گروہ ان کافروں  پر غالب ہوا۔ اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری حصے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تصدیق کرنے سے حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے والوں  کی مدد فرمائی،اس کی برکت سے یہ لوگ کافروں  پر غالب ہو گئے ۔( خازن، الصف، تحت الآیۃ: ۱۴، ۴/۲۶۳-۲۶۴، جلالین، الصف، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۴۵۹، مدارک، الصف، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۱۲۳۸، ملتقطاً)
آیت ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے تین باتیں  معلوم ہوئیں  ،
(1)… مصیبت کے وقت اللّٰہ تعالیٰ کے بندوں  سے مدد مانگنا انبیاء ِکرام  عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے، یہ شرک نہیں  اور ’’اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ‘‘ کے خلاف نہیں ۔
(2)… عیسائیوں  کو نصاریٰ اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے آباء و اَجداد نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا تھا: ’’نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ‘‘۔
(3)… اللّٰہ تعالیٰ کے پیاروں  کی مدد کرنا درحقیقت اللّٰہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنا ہے، کیونکہ حواریوں  نے حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مدد کی تھی مگر عرض کی کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کے مدد گار ہیں ۔