Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
122 - 881
سورۂ صَف
سورۂ صف کا تعارف
مقامِ نزول:
	 سورۂ صف مکیہ ہے، جبکہ حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور جمہور مفسرین کے قول کے مطابق مدنیہ ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الصف، ۴/۲۶۱)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	 اس سورت میں 2 رکوع، 14آیتیں  ہیں ۔
’’صف ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	صف کا معنی ہے سیدھی قطار اور اس سور ت کی آیت نمبر4میں  مذکور کلمہ ’’صَفًّا‘‘ کی مناسبت سے اس کا نام ’’سورۂ صف‘‘ رکھا گیا ہے ۔
سورۂ صف سے متعلق حدیث:
	حضرت عبد اللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ہم نے اس بات پر مُذاکرہ کیا کہ کون حضور پُر نور صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس جا کر یہ پوچھے گا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  کو نسا عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ ابھی ہم میں  سے کوئی اپنی جگہ سے اٹھا بھی نہیں  تھا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہماری طرف ایک شخص بھیجا اور ا س نے ہمیں  جمع کر کے ہمارے سامنے پوری سورۂ صف کی تلاوت کی۔( مسند امام احمد، حدیث عبد اللّٰہ بن سلام رضی اللّٰہ عنہ، ۹/۲۰۵، الحدیث: ۲۳۸۴۹)
سورۂ صف کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں  دشمنوں  کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیاگیا اور مجاہدین کا عظیم