Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
110 - 881
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ تمہیں  ان لوگوں  سے احسان کرنے اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں  کرتا جنہوں  نے تم سے دین میں  لڑائی نہیں  کی اورنہ تمہیں  تمہارے گھروں  سے نکالا، بیشک اللّٰہ انصاف کرنے والوں  سے محبت فرماتا ہے۔ اللّٰہ تمہیں  صرف ان لوگوں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں  لڑے اور انہوں  نے تمہیں  تمہارے گھروں  سے نکالا اور تمہارے نکالنے پر (تمہارے مخالفین کی) مدد کی اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی ظالم ہیں ۔
{لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ: اللّٰہ تمہیں  ان لوگوں  سے منع نہیں  کرتا جنہوں  نے تم سے دین میں  لڑائی نہیں  کی۔} اس آیت کی تفسیر میں کثیر اَقوال اور اختلاف ہیں ،اور عملی صورتیں  جن پر اِس آیت کو مُنطَبِق کرنا ہے وہ تو سینکڑوں  سے زائد ہیں  لہٰذا صرف ایک راجح خلاصۂ کلام یہاں  پیش کیا جاتا ہے ، تفصیل کیلئے فتاویٰ رضویہ کی چودھویں  جلد میں  موجود اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے رسالے ’’ اَلْمَحَجَّۃُ الْمُؤْتَمِنَۃ فِی اٰیَۃِ الْمُمْتَحِنَہ‘‘ کا مطالعہ کریں ۔خلاصۂ آیات یہ ہے کہ جن کفار سے مسلمانوں  کا امن و امان کا معاہدہ ہے یا جوذِمّی کفار ہیں  ان کے ساتھ بِر یعنی اچھا سلوک کرنے اور اِقساط کی ممانعت نہیں  بلکہ اجازت ہے جبکہ ان کے علاوہ کے ساتھ ممانعت ہے۔اِقساط کا معنی اور بِر و اِقساط دونوں  کی تفصیل کیلئے نیچے کا کلام ملاحظہ فرمائیں :
 بِر یعنی نیکی کرنا، حُسنِ سلوک کرنا کیا ہے ؟
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے کفار کے ساتھ بِر و صِلہ کی تین صورتیں  بیان فرمائی ہیں ، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے ساتھ بر و صلہ کی تین صورتیں  ہیں :
(1)…اعلیٰ صورت:اپنی کسی صحیح غرض کے بغیر بالقصدمحض کافر کو نفع دینا اور بھلائی پہنچانا مقصود ہو۔یہ صورت مُستامِن یعنی امان لے کر اسلامی سلطنت میں  آنے والے کافر اور مُعاہِد یعنی اس کافر سے بھی حرام ہے جس کے ساتھ معاہدہ ہے کیونکہ امان اور معاہدہ ضَرَر کوروکنے کے لئے ہیں  نہ کہ اللّٰہ تعالیٰ کے دشمنوں  کو جان بوجھ کر نفع پہنچانے کے لئے۔
(2)…درمیانی صورت :اپنی ذاتی مصلحت جیسے کافر نے کچھ دیا تو اس کے بدلے میں  اسے دینا یا رشتہ داری کا لحاظ کرتے ہوئے کچھ مالی سلوک کرنا۔یہ اس کافر کے ساتھ جائز ہے جس سے مسلمانوں  کا معاہدہ ہے اور جس سے معاہدہ نہیں  اس سے ممنوع ہے۔