انبیاءِ کرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیروی خاص اعمال میں ہے کیونکہ سابقہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِ مُ السَّلَام کی شریعت کے بہت سے اَحکام مَنسوخ بھی ہوگئے ہیں ، لہٰذا یہ آیت سورہِ اَحزاب کی اس آیت ’’لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ‘‘ کے خلاف نہیں ،کیونکہ یہاں خاص صورتوں میں خاص پیروی کا حکم ہے اور سورہ ِاحزاب کی آیت میں مطلقاً پیروی کا حکم ہے۔
آیت ’’قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں ،
(1)… انبیا ءِکرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت یہ ہے کہ اپنا ایمان اپنے قول اور فعل سے ظاہر کردے۔
(2)… کفا ر سے دشمنی رکھنا اتناہی ضروری ہے جتنا مسلمانوں سے محبت رکھنا ضروری ہے۔
(3)… اللّٰہ تعالیٰ کے اِذن اور ا س کی اجازت سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہگار مومنوں سے عذاب دور کریں گے اور ان کی شفاعت سے عذاب دور ہوگا ، لہٰذا یہ آیت مومنوں کے حق میں شفاعت نہ ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔
{رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا: اے ہمارے رب! ہمیں کافروں کیلئے آزمائش نہ بنا۔} یعنی یہ دعا مانگنے میں بھی مسلمانوں کو ان کی پیروی کرنی چاہئے کہ اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، کافروں کو ہم پر غلبہ دے کر ہمیں ان کیلئے آزمائش نہ بنا کیونکہ وہ اپنے آپ کو حق پر اور مسلمانوں کو باطل پر گمان کرنے لگیں گے اور یوں ان کا کفر اور بھی بڑھ جائے گا نیز اے اللّٰہ، ہمیں بخش دے، اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، بیشک تو ہی عزت والا اور حکمت والا ہے۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠(۶)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک تمہارے لیے ان میں اچھی پیروی تھی اسے جو اللّٰہ اور پچھلے دن کا امیدوار ہو اور جو منہ پھیرے تو بیشک اللّٰہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا۔