Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
102 - 881
(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا’’وہ لوگ کہاں  ہیں  جو میرے جلال کی وجہ سے آپس میں  محبت رکھتے تھے، آج میں  انہیں  اپنے (عرش کے) سائے میں  رکھوں  گا، آج میرے (عرش کے) سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ۔( مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فی فضل الحبّ فی اللّٰہ، ص۱۳۸۸، الحدیث: ۳۷(۲۵۶۶))
(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے دوسرے علاقے میں  گیا، اللّٰہ تعالیٰ نے اس کے راستے پر ایک فرشتہ بٹھا دیا۔ جب وہ فرشتے کے پاس آیا تو اس نے دریافت کیا: کہاں  کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا :اس علاقے میں  میرا بھائی ہے اس سے ملنے جارہا ہوں ۔ فرشتے نے کہا: کیا اس پر تیرا کوئی احسان ہے جسے لینے جارہا ہے ؟اس نے کہا: نہیں ، صرف یہ بات ہے کہ میں  اسے اللّٰہ تعالیٰ کے لیے دوست رکھتا ہوں ۔ فرشتے نے کہا: مجھے اللّٰہ تعالیٰ نے تیرے پاس بھیجا ہے تاکہ تجھے یہ خبردوں  کہ اللّٰہ تعالیٰ نے تجھے دوست رکھا جیسے تو نے اللّٰہ تعالیٰ کے لیے اس سے محبت کی ہے۔( مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فی فضل الحب فی اللّٰہ، ص۱۳۸۸، الحدیث: ۳۸(۲۵۶۷))
(3)…حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’جو کسی سے اللّٰہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھے، اللّٰہ تعالیٰ کے لیے دشمنی رکھے ، اللّٰہ تعالیٰ کے لیے دے اور اللّٰہ تعالیٰ کے لیے منع کرے تو اس نے اپنا ایمان کامل کرلیا۔( ابو داؤد، کتاب السنّۃ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ، ۴/۲۹۰، الحدیث: ۴۶۸۱)
(4)…حضرت ابوذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تمہیں  معلوم ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسند کون سا عمل ہے ؟ کسی نے کہا، نماز و زکوٰۃ اور کسی نے کہا جہاد۔ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’اللّٰہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پیارا عمل اللّٰہ تعالیٰ کے لیے محبت اور بغض رکھنا ہے۔( مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی ذر الغفاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ، ۸/۶۸، الحدیث: ۲۱۳۶۱)
	اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  اپنی رضا کے لئے کسی سے دوستی ،دشمنی اور بغض رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمین۔