Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
94 - 520
اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیۡنَ﴿۲۴﴾
ترجمۂکنزالایمان:پھر اگر نہ لا سکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ لا سکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں تیار رکھی ہے کافروں کے لیے ۔
ترجمۂکنزالعرفان:پھر اگر تم یہ نہ کرسکواور تم ہر گز نہ کرسکو گے تو اس آگ سے ڈروجس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ وہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔
{وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ:اس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔}اس آیت میں آدمی سے کافر اور پتھر سے وہ بت مراد ہیں جنہیں کفار پوجتے ہیں اور ان کی محبت میں قرآنِ پاک اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکاانکار کرتے ہیں۔ پتھروں کا جہنم میں جانا اُن پتھروں کی سزا نہیں بلکہ اُن کے پجاریوں کی سزا کے لئے ہوگا یعنی پجاریوں کو ان پتھروں کے ساتھ سزا دی جائے گی۔
{اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیۡنَ:وہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔} اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ پیدا ہوچکی ہے کیونکہ یہاں ماضی کے الفاظ ہیں نیز ’’کافروں کیلئے‘‘ فرمانے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ مومنین اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جہنم میں ہمیشہ داخلے سے محفوظ رہیں گے کیونکہ جہنم بطورِ خاص کافروں کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ 
وَبَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ ؕ کُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنْہَا مِنۡ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوۡا ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقْنَا مِنۡ قَبْلُ ۙ وَاُتُوۡابِہٖ مُتَشٰبِہًا ؕ وَلَہُمْ فِیۡہَاۤ اَزْوٰجٌ مُّطَہَّرَۃٌ ٭ۙ وَّہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۲۵﴾
 ترجمۂکنزالایمان:اور خوشخبری دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے