سے چاہتے داخل ہو جاتے تھے،الغرض دنیا میں ہر طرف ان کی فصاحت و بلاغت کا ڈنکا بجتا تھا اور لوگ فصاحت و بلاغت میں ان کا مقابلہ کرنے کی تاب نہ رکھتے تھے۔
ان اہل عرب کو فصاحت و بلاغت کے میدا ن میں اگر کسی نے عاجز کیا ہے تو وہ کلام قرآن مجید ہے ،اس مقدس کتاب کی فصاحت و بلاغت نے اہل عرب کی عقلوں کو حیران کردیا اور اپنی مثل لانے سے عاجز کردیا۔
(2)…تلاوت ِ قرآن کی تاثیر:
قرآن مجید کے بے مثل ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اسے پڑھنے اور سننے والا کبھی سیر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے اکتاتا ہے بلکہ وہ اس کی جتنی زیادہ تلاوت کرتا ہے اتنی ہی زیادہ شیرینی اور لذت پاتا ہے اور بار بار اس کی تلاوت کرنے سے اس کی محبت دل میں راسخ ہوتی جاتی ہے اور ا س کے علاوہ کوئی اور کلام اگرچہ وہ کتنی ہی خوبی والا اورکتنا ہی فصیح و بلیغ کیوں نہ ہو اسے بار بار پڑھنے سے دل اکتا جاتا ہے اور جب اسے دوبارہ پڑھا جائے تو طبیعت بیزار ہو جاتی ہے ۔ قرآن مجید کی اس شان کے بارے میں حضرت حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں ،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ قرآن وہ ہے جس کی برکت سے خواہشات بگڑتی نہیں اور جس سے دوسری زبانیں مشتبہ نہیں ہوتی، علماء اس سے سیر نہیں ہوتے،یہ بار بار دہرائے جانے سے پرانا نہیں ہوتا اور ا س کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔
(ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل القرآن، ۴/۴۱۴-۴۱۵، الحدیث: ۲۹۱۵)
نیزقرآن مجید کی آیات میں رعب ، قوت اور جلال ہے کہ جب کوئی ان کی تلاوت کرتا ہے یا انہیں کسی سے سنتا ہے تو ا س کے دل پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے حتی کہ جسے قرآن پاک کی آیات کے معانی سمجھ میں نہ آ رہے ہوں اور وہ آیات کی تفسیر بھی نہ جانتا ہو، ا س پر بھی رقت طاری ہو جاتی ہے، جبکہ قرآن مجید کے علاوہ اور کسی کتاب میں یہ وصف نہیں پایا جاتا اگرچہ وہ کیسے ہی انداز میں کیوں نہ لکھی گئی ہو۔
(3)… غیب کی خبریں :
قرآن پاک میں مستقبل کے متعلق جو خبریں دی گئیں وہ تمام کی تمام پوری ہوئیں مثلا زمانہ نبوی میں رومیوں کے ایرانیوں پر غالب آنے کی خبر دی گئی اور وہ سوفیصد پوری ہوئی۔
فَاِنۡ لَّمْ تَفْعَلُوۡا وَلَنۡ تَفْعَلُوۡا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡ وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ ۚۖ