Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
91 - 520
(4)…آسمان سے بارش اتارنااور زمین سے نباتات اُگانا۔
	جب آدمی کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک پل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے تو اُس مالک ِ حقیقی کو چھوڑ کر کسی اورکا عبادت گزاربننا کس قدر ناشکری ہے؟ یونہی ایسے کریم خدا کی یاد سے غفلت بھی کتنی بڑی ناشکری ہے۔
وَ اِنۡ کُنۡتُمْ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثْلِہٖ ۪ وَادْعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیۡنَ﴿۲۳﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے ان خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے سب حمائتیوں کو بلالو اگر تم سچے ہو۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور اگر تمہیں اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہو جو ہم نے اپنے خاص بندے پرنازل کی ہے تو تم اس جیسی ایک سورت بنالاؤ اور اللہ کے علاوہ اپنے سب مددگاروں کو بلالو اگر تم سچے ہو۔
{وَ اِنۡ کُنۡتُمْ فِیۡ رَیۡبٍ:اور اگر تمہیں کچھ شک ہو ۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و وحدانیت کا بیان ہوا اور یہاں سے حضور سید المرسلین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت اور قرآن کریم کے اللہ تعالیٰ کی بے مثل کتاب ہونے کی وہ قاہر دلیل بیان فرمائی جارہی ہے جو طالب ِصادق کو اطمینان بخشے اور منکروں کو عاجز کردے۔اللہ تعالیٰ کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل محمد مصطفی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہیں اور محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی عظمت کی سب سے بڑی دلیل قرآن ہے لہٰذا اس رکوع میں ترتیب سے ان سب کو بیان کیا گیا ہے۔ 
{عَلٰی عَبْدِنَا: اپنے خاص بندے پر ۔}اس آیت میں خاص بندے سے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مراد ہیں۔(مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۳، ص۳۵) یہاں اس اندازِ تعبیر میں نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی شانِ محبوبیت کی طرف بھی اشارہ ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں :
لیکن رضا نے ختم سخن اس پہ کر دیا			 خالق کا بندہ خَلق کا آقا کہوں تجھے
{فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثْلِہٖ: تو تم اس جیسی ایک سورت بنالاؤ ۔}آیت کے اس حصے اور اس کے بعد والی آیت میں قرآن کے بے مثل ہونے پر دو ٹوک الفاظ میں ایک کھلی دلیل دی جارہی ہے کہ اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز کرنے والوں کو چیلنج ہے