اس بات کااشارہ ہے کہ انسانی شرافت اسی میں ہے کہ آدمی تقویٰ حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کا بندہ بنے ۔
عبادت کی تعریف:
عبادت اُس انتہائی تعظیم کا نام ہے جو بندہ اپنی عبدیت یعنی بندہ ہونے اور معبودکی اُلوہیت یعنی معبود ہونے کے اعتقاد اور اعتراف کے ساتھ بجالائے۔یہاں عبادت توحید اور اس کے علاوہ اپنی تمام قسموں کو شامل ہے۔کافروں کو عبادت کا حکم اس معنیٰ میں ہے کہ وہ سب سے بنیادی عبادت یعنی ایمان لائیں اور اس کے بعد دیگر اعمال بجالائیں۔
{لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوۡنَ: تاکہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔} اس سے معلوم ہوا کہ عبادت کا فائدہ عابد ہی کو ملتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کو عبادت یا اور کسی چیز سے نفع حاصل ہو ۔
الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرْضَ فِرٰشًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً ۪ وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّکُمْ ۚ فَلَا تَجْعَلُوۡا لِلہِ اَنۡدَادًا وَّ اَنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ﴿۲۲﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل نکالے تمہارے کھانے کو تو اللہ کے لئے جان بوجھ کر برابر والے نہ ٹھہراؤ ۔
ترجمۂکنزالعرفان:جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور اس نے آسمان سے پانی اتاراپھر اس پانی کے ذریعے تمہارے کھانے کے لئے کئی پھل پیدا کئے تو تم جان بوجھ کر اللہ کے شریک نہ بناؤ۔
{الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرْضَ فِرٰشًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً:جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا۔}اس آیت اور ا س سے اوپر والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ان نعمتوں کو بیان فرمایا ہے:
(1)…مخلوق کو عدم سے وجود میں لانا۔
(2)…آسمان و زمین کو پیدا کرنا۔
(3)…آسمان و زمین سے مخلوق کے رزق کا مہیا کرنا۔