کا غضب ہوا ان سے مراد یہودی اوربہکے ہوؤں سے مراد عیسائی ہیں جیساکہ سنن ترمذی، جلد4،صفحہ444، حدیث نمبر 2964میں ہے اور امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے یہ بھی لکھا ہے کہ جن پر غضب ہوا ان سے مراد بدعمل ہیں اور بہکے ہوؤں سے مراد بدعقیدہ لوگ ہیں۔(تفسیر کبیر، الفاتحۃ، تحت الآیۃ: ۷، ۱/۲۲۲-۲۲۳) ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ عقائد ،اعمال، سیرت،صورت ہر اعتبار سے یہودیوں ، عیسائیوں اور تمام کفار سے الگ رہے، نہ ان کے طور طریقے اپنائے اور نہ ہی ان کے رسم ورواج اور فیشن اِختیار کرے اوران کی دوستیوں اور صحبتوں سے دور رہتے ہوئے اپنے آپ کو قرآن وسنّت کے سانچے میں ڈھالنے میں ہی اپنے لئے دونوں جہان کی سعادت تصور کرے۔ (1)
آیت ’’وَلَا الضَّآلِّیۡنَ‘‘ سے متعلق شرعی مسئلہ:
بعض لوگ ’’وَلَا الضَّآلِّیۡنَ‘‘ کو ’’وَلَا الظَّآ لِّیْن‘‘ پڑھتے ہیں ،ان کا ایسا کرنا حرام ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :ض،ظ،ذ،ز سب حروف متبائنہ،متغائرہ (یعنی ایک دوسرے سے جداجدا حروف) ہیں ،ان میں سے کسی کو دوسرے سے تلاوتِ قرآن میں قصدا ًبدلنا،اِس کی جگہ اُسے پڑھنا، نماز میں ہو خواہ بیرون نماز، حرام قطعی وگناہِ عظیم،اِفْتِراء عَلَی اللہ و تحریف ِکتاب کریم ہے۔(فتاوی رضویہ، ۶/۳۰۵) اس مسئلے کے بارے میں دلائل کے ساتھ تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاوی رضویہ کی چھٹی جلد میں موجود ان رسائل کا مطالعہ فرمائیں : (۱) نِعْمَ الزَّادْ لِرَوْمِ الضَّادْ۔(ضاد کی ادائیگی کا بہترین طریقہ)(۲)اِلْجَامُ الصَّادْ عَنْ سُنَنِ الضَّادْ۔(ضاد کی ادائیگی کے غلط اور صحیح طریقوں کا بیان)
{اٰمین}اس کا ایک معنی ہے :اے اللہ !عَزَّوَجَلَّ،تو قبول فرما۔دوسرا معنی ہے :اے اللہ !عَزَّوَجَلَّ،تو ایسا ہی فرما۔
اٰمین سے متعلق شرعی مسائل:
(1)…یہ قرآن مجید کا کلمہ نہیں ہے ۔
(2)… نماز کے اندر اور نماز سے باہر جب بھی ’’سورۂ فاتحہ‘‘ ختم کی جائے تو ا س کے بعد اٰمین کہنا سنت ہے۔
(3)… احناف کے نزدیک نماز میں آمین بلند آواز سے نہیں بلکہ آہستہ کہی جائے گی۔
1: اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ،، دعوتِ اسلامی،، سے وابستہ ہو جانا بے حد مفید ہے۔