Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
59 - 520
(3)…صرف اپنے لئے دعا نہیں مانگنی چاہئے بلکہ سب مسلمانوں کے لئے دعا مانگنی چاہئے کہ اس طرح دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔ 
صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ۬ۙ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ٪﴿۷﴾
ترجمۂکنزالایمان:راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا،نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔
ترجمۂکنزالعرفان:ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے احسان کیانہ کہ ان کا راستہ جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔
{صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ:ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے احسان کیا۔}یہ جملہ اس سے پہلی آیت کی تفسیر ہے کہ صراطِ مستقیم سے مراد ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر اللہ  تعالیٰ نے احسان و انعام فرمایااور جن لوگوں پر اللہ  تعالیٰ نے اپنا فضل و احسان فرمایا ہے ان کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
’’وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾‘‘(النساء:۶۹)
ترجمۂکنزالعرفان:اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہونگے جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔
آیت’’صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
	اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں :
(1)… جن امور پر بزرگانِ دین کا عمل رہا ہو وہ صراطِ مستقیم میں داخل ہے۔
(2)…امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : بعض مفسرین نے فرمایا کہ ’’اِہۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ‘‘ کے بعد’’صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ‘‘ کو ذکر کرنا ا س بات کی دلیل ہے کہ مرید ہدایت اورمُکَاشَفَہ کے مقامات تک اسی صورت پہنچ سکتا ہے جب وہ کسی ایسے (کامل)پیر کی پیروی کرے جو درست راستے کی طرف اس کی رہنمائی کرے، غلطیوں اور گمراہیوں کی جگہوں سے اسے بچائے کیونکہ اکثر لوگوں پر نقص غالب ہے اور ان کی عقلیں حق کو سمجھنے ،صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے سے قاصر ہیں تو ایک ایسے کامل شخص کا ہونا ضروری ہے جس کی ناقص شخص پیروی کرے یہاں تک کہ اِس کامل شخص کی عقل کے نور سے اُ س ناقص شخص کی عقل بھی مضبوط ہو جائے تو اس صورت میں وہ سعادتوں کے درجات اور کمالات کی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔   
 (تفسیر کبیر، الفاتحۃ، الباب الثالث، ۱/۱۶۴)
{غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ:نہ کہ ان کا راستہ جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔ }جن پر اللہ  تعالیٰ