ترجمۂکنزُالعِرفان: اے حبیب! تم فرمادو، اے اہلِ کتا ب! ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں کوئی ایک اللہ کے سوا کسی دوسرے کو رب نہ بنائے پھر (بھی) اگر وہ منہ پھیریں تو اے مسلمانو! تم کہہ دو : ’’تم گواہ رہو کہ ہم سچے مسلمان ہیں ‘‘۔
{قُلْ یٰۤاَہۡلَ الْکِتٰبِ: تم فرماؤ، اے اہلِ کتاب!۔} اہلِ کتاب کو تین چیزوں کی طرف دعوت دی پہلی یہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور یہ وہ چیز ہے جس میں قرآن ،توریت اور انجیل سب متفق ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ دوسری یہ کہ ہم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرائیں نہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اور نہ حضرت عزیر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو نہ اور کسی کو اور یہ بات یقینا پہلی بات ماننے کے مُترادِف ہے۔ تیسری بات یہ کہ ہم میں سے کوئی کسی کو اپنا رب نہ بنائے جیسے یہود و نصاریٰ نے اپنے علماء اور پادریوں کو بنا رکھا تھا کہ ان کے احکام کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کے برابر سمجھتے۔
اختلاف ختم کرنے کا عمدہ طریقہ:
اس آیت میں اختلاف ختم کرنے کا ایک عمدہ طریقہ بیان کیا ہے کہ جو مشترکہ اور متفقہ چیزیں ہیں انہیں طے کرلیا جائے تاکہ اختلافی امور ممتاز ہوجائیں اور ان کی تعداد کم ہو جائے اور بحث صرف انہی پر منحصر رہے۔ ورنہ ہوتا یہ ہے کہ جب بحث کی جاتی ہے تو کبھی اختلافی موضوع زیرِ بحث آتا ہے اور کبھی اتفاقی پر بحث شروع ہوجاتی ہے۔
یٰۤاَہۡلَ الْکِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوۡنَ فِیۡۤ اِبْرٰہِیۡمَ وَمَاۤ اُنۡزِلَتِ التَّوۡرٰىۃُ وَالۡاِنۡجِیۡلُ اِلَّا مِنۡۢ بَعْدِہٖؕ اَفَلَا تَعْقِلُوۡنَ﴿۶۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے کتاب والو ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو توریت و انجیل تو نہ اتری مگر ان کے بعد تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے اہلِ کتاب ! تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟ حالانکہ توریت اور انجیل تو اتری ہی ان کے بعد ہے ۔تو کیا تمہیں عقل نہیں ؟
{لِمَ تُحَآجُّوۡنَ فِیۡۤ اِبْرٰہِیۡمَ: تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟ } نجران کے عیسائیوں اور یہودیوں کے علماء میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے متعلق مناظرہ ہوا۔ یہودی کہتے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یہودی تھے