Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
489 - 520
مباہلہ کس میں ہونا چاہئے:
	اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ مناظرہ سے اوپر درجہ مباہلہ کا ہے یعنی مخالف ِدین کے ساتھ بد دعا کرنی۔ دوسرے یہ کہ مباہلہ دین کے یقینی مسائل میں ہونا چاہیے نہ کہ غیر یقینی مسائل میں لہٰذا اسلام کی حقانیت پر تو مباہلہ ہوسکتا ہے۔ حنفی شافعی اختلافی مسائل میں نہیں۔
اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّۚ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللہُؕ وَ اِنَّ اللہَ لَہُوَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ﴿۶۲﴾ فَاِنۡ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌۢ بِالْمُفْسِدِیۡنَ ﴿۶۳﴾٪
 ترجمۂکنزالایمان: یہی بیشک سچا بیان ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک اللہ ہی غالب ہے حکمت والا۔ پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ فسادیوں کو جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک یہی سچا بیان ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک اللہ ہی غالب ہے حکمت والا ہے۔ پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ فساد کرنے والوں کو جانتا ہے۔
{اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ: بیشک یہی سچا بیان ہے۔} یعنی یہ کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس میں نصاریٰ کا بھی رد ہے اور تمام مشرکین کا بھی۔
قُلْ یٰۤاَہۡلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۭ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ وَلَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیۡـًٔا وَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللہِؕ فَاِنۡ تَوَلَّوْا فَقُوۡلُوا اشْہَدُوۡا بِاَنَّا مُسْلِمُوۡنَ﴿۶۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ، اے کتابیو ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خدا کی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنالے اللہ کے سوا پھر اگر وہ نہ مانیں تو کہہ دو تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔