Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
485 - 520
حضرت عیسی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وفات کا دعویٰ کیا اور یہ سراسر غلط ہے کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ تَوَفّٰی کا حقیقی معنی ہے ’’پورا کرنا ‘‘ جیسے قرآن پاک میں ہے:
وَ اِبْرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی ﴿ۙ۳۷﴾    (النجم:۳۷) 		ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ابراہیم جو پورے احکام بجا لایا۔ 
	 اور یہ موت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ ا س کا مجازی معنی ہے اور جب تک کوئی واضح قرینہ موجود نہ ہو اس وقت تک لفظ کا حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی مراد نہیں لیا جا سکتا، اور یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں کہ تَوَفّٰی کا معنی موت کیا جائے بلکہ ا س کا حقیقی معنی مراد لینے پر واضح قرائن بھی موجود ہیں اور وہ قرائن احادیثِ مبارکہ ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور قربِ قیامت میں واپس تشریف لائیں گے۔ لہٰذا اس آیت سے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وفات ثابت نہیں ہوتی۔ دوسرے نمبر پر بالفرض اگر تَوَفّٰی کا معنیٰ ’’وفات دینا ‘‘ ہی ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وفات پاچکے ہیں۔ صرف یہ فرمایا ہے کہ’’ اے عیسیٰ! میں تجھے وفات دوں گا۔ تو یہ بات تو ہم بھی مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی وفات پائیں گے، یہ معنی نہیں ہے کہ ہم نے تجھے فوت کردیا۔ اب یہ بات کہ آیت میں تَوَفّٰی یعنی وفات دینے کاپہلے تذکرہ ہے اور اٹھائے جانے کا بعد میں اور چونکہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اٹھائے جاچکے ہیں لہٰذا ان کی وفات بھی پہلے ثابت ہوگئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ آیت میں ’’ مُتَوَفِّیۡکَ‘‘ اور ’’رَافِعُکَ‘‘کے درمیان میں ’’واؤ‘‘ ہے اور عربی زبان میں ’’واؤ‘‘ ترتیب کیلئے نہیں آتی کہ جس کا مطلب یہ نکلے کہ وفات پہلے ہوئی اور اٹھایا جانا بعد میں ، جیسے قرآن پاک میں حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے فرمایا گیا: 
وَاسْجُدِیۡ وَارْکَعِیۡ     (آلِ عمران:۴۳)		ترجمۂکنزُالعِرفان:اور سجدہ اور رکوع کر۔
	یہاں سجدے کا پہلے تذکرہ ہے اور رکوع کا بعد میں ، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا رکوع بعد میں کرتی تھیں اور سجدہ پہلے ، ہر گز نہیں۔ لہٰذا جیسے یہاں ’’واؤ‘‘ کا آنا ترتیب کیلئے نہیں ہے ایسے ہی مذکورہ بالا آیت میں ’’واؤ‘‘ترتیب کیلئے نہیں ہے۔ 
	دوسری بات حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اٹھایا جانا ہے۔ فرمایا گیا کہ ہم تمہیں  بغیر موت کے اٹھا کر آسمان پر عزت کی جگہ اور فرشتوں کی جائے قرار میں پہنچا دیں گے ۔رسولِ اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا :حضرت