Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
484 - 520
وَالسَّلَام  کی شَباہت اس شخص پر ڈال دی جو ان کے قتل کے لیے آمادہ ہوا تھا چنانچہ یہودیوں نے اس کو اسی شبہ پر قتل کردیا۔ 
(صاوی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۵۴، ۱/۲۷۶) 
لفظ ’’مکر‘‘ کے معنی:
	 لفظ مَکَر لغت عرب میں ستر یعنی پوشیدگی کے معنی میں ہے اسی لئے خفیہ تدبیر کو بھی مَکَر کہتے ہیں اور وہ تدبیر اگر اچھے مقصد کے لیے ہو تو محمود اور کسی قبیح غرض کے لیے ہو تو مذموم ہوتی ہے مگر اردو زبان میں یہ لفظ فریب کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے اس لیے ہر گز شانِ الٰہی میں نہ کہا جائے گا اور اب چونکہ عربی میں بھی دھوکے کے معنیٰ میں معروف ہوگیا ہے اس لیے عربی میں بھی شانِ الٰہی میں اس کا اطلاق جائز نہیں آیت میں جہاں کہیں مذکور ہوا ہے وہاں وہ خفیہ تدبیر کے معنی میں ہے۔
اِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوْقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیۡنَکُمْ فِیۡمَا کُنۡتُمْ فِیۡہِ تَخْتَلِفُوۡنَ﴿۵۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: یاد کرو جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور تجھے کافروں سے پاک کردوں گا اور تیرے پَیرووں کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے تو میں تم میں فیصلہ فرمادوں گا جس بات میں جھگڑتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یاد کرو جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تمہیں پوری عمر تک پہنچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور تجھے کافروں سے نجات عطاکروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے توجن باتوں میں تم جھگڑتے تھے ان باتوں کا میں تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا۔
{اِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیۡسٰۤی: جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ۔} اس آیتِ مبارکہ میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو چار باتیں فرمائی گئیں : (1) تَوَفّٰی یعنی پوری عمر کو پہنچانا،(2)اپنی طرف اٹھالینا، (3)کافروں سے نجات دینا، (4) حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پیروکاروں کو غلبہ دینا۔ اب ہم ان کو ذرا تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ 
	پہلی بات تَوَفّٰی ہے۔ مرزائیوں نے آیت ِپاک کے ان الفاظ کوبنیاد بنا کر یہود و نصاریٰ کی پیروی میں