سود خور قیامت میں ایسے مَخبوطُ الحَواس ہوں گے اور ایسے گرتے پڑتے کھڑے ہوں گے ، جیسے دنیا میں وہ شخص جس پر بھوت سوار ہو کیونکہ سود خور دنیا میں لوگوں کے لئے بھوت بنا ہوا تھا۔ آج کل سودی قرضہ لینے دینے کا ابتدائی انداز تو بڑا مُہَذّب ہوتا ہے۔ اچھے اچھے ناموں سے اور خوش کُن ترغیبات سے دیا جاتا ہے لیکن کچھ ہی عرصے بعد قرض دینے والوں کی خوش اخلاقی، ملنساری اور چہرے کی مسکراہٹ سب رخصت ہوجاتی ہے اور اصل چہرہ بے نقاب ہوجاتا ہے جو گالیاں دے رہا ہوتا ہے، غنڈے بھیج رہا ہوتا ہے، گھر کے باہر کھڑے ہو کر ذلیل و رسوا کررہا ہوتا ہے، دکان، مکان، فیکٹری سب پر قبضہ کرکے فقیر و کنگال اور محتاج و قَلّاش کرکے بے گھر اور بے زر کر رہا ہوتا ہے۔
{اِنَّمَا الْبَیۡعُ مِثْلُ الرِّبٰوا: تجارت سود ہی کی طرح ہے۔} یہاں سود خوروں کا وہ شبہ بیان کیا جارہا ہے جو زمانۂ اسلام سے پہلے سے لے کر آج تک چلا آرہا ہے۔ وہ یہ کہ تجارت اور سود میں کیا فرق ہے؟ دونوں ایک جیسے تو ہیں۔ تجارت میں کوئی سامان دے کرنفع حاصل کیا جاتا ہے اور سود میں رقم دے کر نفع حاصل کیا جاتا ہے حالانکہ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔غور کریں کہ تجارت کرنے سے حسنِ سلوک میں فرق نہیں آتا، آدمی سست، کاہل اور مشقت سے جی چرانے والا نہیں بنتا، اپنے مال کو خطرے پر پیش کرتا ہے، نفع ونقصان دونوں کی امید ہوتی ہے، وہ دوسرے کی بربادی و محتاجی کا آرزو مند نہیں ہوتا جبکہ سود والا بے رحم ہوجاتا ہے، وہ مفت میں کسی کو رقم دینے کا تصور نہیں کرتا، انسانی ہمدردی اس سے رخصت ہوجاتی ہے، قرض لینے والا ڈوبے، مرے، تباہ ہو یہ بہر صورت اُسے نچوڑنے پر تُلا رہتا ہے۔ آخر یہ سب فرق کیا ہیں ؟ تجارت اور سود کو ایک جیسا کہنے والے کو کیایہ فرق نظر نہیں آتا؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔
{فَانۡتَہٰی: تو جو رک گیا۔} چونکہ سود کا لین دین ایک عرصے سے چلتا آرہا تھا تو فرمایا گیا کہ جب حکمِ الٰہی نازل ہوگیا تو اب اس پر عمل کرتے ہوئے جو آئندہ سود لینے سے باز آگیا تو حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے جووہ لیتا رہا اس پر اس کی کوئی گرفت نہ ہوگی اور اس کی معافی کا معاملہ بلکہ ہر امر ونہی کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ جو حرمت کا حکم اترنے کے بعد بھی سود کھائے گا تو وہ جہنم کا مستحق ہے اور اگر حلال سمجھ کر کھایا تو کافر ہے، ہمیشہ جہنم میں رہے گا کیونکہ کسی بھی حرامِ قطعی کو حلال جاننے والا کافر ہے۔