Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
410 - 520
 تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتو ں رہیں گے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر اس شخص کے کھڑے ہونے کی طرح جسے آسیب نے چھو کرپاگل بنادیا ہو۔ یہ سزا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے کہا: خریدوفروخت بھی تو سود ہی کی طرح ہے حالانکہ اللہ نے خریدوفروخت کو حلال کیا اورسود کو حرام کیا تو جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آئی پھر وہ باز آ گیا تو اس کیلئے حلال ہے وہ جو پہلے گزرچکا اور اس کامعاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جودوبارہ ایسی حرکت کریں گے تو وہ دوزخی ہیں ، وہ اس میں مدتوں رہیں گے۔
{اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا: جو لوگ سود کھاتے ہیں۔}  گزشتہ آیات میں مال خرچ کرکے رضائے الٰہی اور جنت کمانے والوں کا بیان تھا، اب اسی مال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا غضب اور جہنم کمانے والوں کا بیان ہے، چنانچہ ان لوگوں کے ایک بڑے طبقے یعنی سود خوروں کا بیان اور انجام اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔
سودکو حرام کئے جانے کی حکمتیں :
	سود کو حرام فرمانے میں بہت سی حکمتیں ہیں ، ان میں سے بعض یہ ہیں کہ سود میں جو زیادتی لی جاتی ہے وہ مالی معاوضے والی چیزوں میں بغیر کسی عوض کے مال لیا جاتا ہے اور یہ صریح ناانصافی ہے ۔سود کی حرمت میں دوسری حکمت یہ ہے کہ سود کا رواج تجارتوں کو خراب کرتا ہے کہ سود خور کو بے محنت مال کا حاصل ہونا ،تجارت کی مشقتوں اور خطروں سے کہیں زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے اور تجارتوں کی کمی انسانی معاشرت کو ضرر پہنچاتی ہے۔ تیسری حکمت یہ ہے کہ سود کے رواج سے باہمی محبت کے سلوک کو نقصان پہنچتا ہے کہ جب آدمی سود کا عادی ہوا تو وہ کسی کو قرض حَسن سے امداد پہنچانا گوارا نہیں کرتا۔ چوتھی حکمت یہ ہے کہ سود سے انسان کی طبیعت میں درندوں سے زیادہ بے رحمی پیدا ہوتی ہے اور سود خور اپنے مقروض کی تباہی و بربادی کا خواہش مند رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی سود میں اور بڑے بڑے نقصان ہیں اور شریعت کی سود سے ممانعت عین حکمت ہے ۔مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے سود دینے والے، لینے والے، اس کے کاغذات تیار کرنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ وہ سب گناہ میں برابر ہیں۔ 
(مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب لعن آکل الربا ومؤکلہ، ص۸۶۲، الحدیث: ۱۰۶(۱۵۹۸))