’’ جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مار رہا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے تو اس سے اپنے ہاتھ اٹھا لو۔
(ترمذی، کتاب البرّ والصلۃ، باب ما جاء فی ادب الخادم، ۳/۳۸۲، الحدیث: ۱۹۵۷)
اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاپنے خدمت گاروں سے کیساسلوک فرماتے تھے اس کی ایک مثال ملاحظہ کیجئے، چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جب تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمدینہ منورہ میں رونق افروز ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کوئی خادم نہیں رکھا ہو اتھا (میرے سوتیلے والد) حضرت طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوئے اور عرض کی:یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، انس سمجھدار لڑکا ہے ا س لئے یہ آپ کی خدمت گزاری کا شرف حاصل کرے گا۔ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُُ فرماتے ہیں : میں نے (دس سال تک) سفر و حَضر میں حضور پُر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت کرنے کی سعادت حاصل کی، لیکن جو کام میں نے کیا اس کے بارے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟ اور جو کام میں نے نہ کیااس کے بارے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ’’تم نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا؟
(بخاری، کتاب الوصایا، باب استخدام الیتیم فی السفر والحضر۔۔۔ الخ، ۲/۲۴۳، الحدیث: ۲۷۶۸)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰیۙ کَالَّذِیۡ یُنۡفِقُ مَالَہٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِؕ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیۡہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلْدًاؕ لَا یَقْدِرُوۡنَ عَلٰی شَیۡءٍ مِّمَّا کَسَبُوۡاؕ وَاللہُ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیۡنَ﴿۲۶۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے، تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا۔