کہی جائے اور خوش خُلُقی کے ساتھ جواب دیا جائے جو اسے ناگوار نہ گزرے اور اگر وہ سوال میں اصرار کرے یا زبان درازی کرے تو اس سے در گزر کیا جائے ۔سائل کوکچھ نہ دینے کی صورت میں اس سے اچھی بات کہنا اور اس کی زیادتی کو معاف کردینا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد اسے عار دلا ئی جائے یا احسان جتایا جائے یا کسی دوسرے طریقے سے اسے کوئی تکلیف پہنچا ئی جائے۔
{وَاللہُ غَنِیٌّ: اور اللہ بے پرواہ ہے۔} آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات کابیان ہوا کہ وہ بندوں کے صدقات سے بے پرواہ اور گناہگاروں کو جلد سزا نہ دے کر حِلم فرمانے والا ہے۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶۳، ۱/۲۰۷)
اپنے ماتحتوں کی خطاؤں سے در گزر کریں :
اس آیت میں بھی ہمیں نصیحت ہے کہ اللہ تعالیٰ غنی و بے پرواہ ہو کر بھی حلیم ہے کہ بندوں کے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور تم تو ثواب کے محتاج ہو لہٰذا تم بھی فقراء و مساکین اور اپنے ماتحتوں کی خطاؤں سے در گزر کیا کرو۔ حلم سنتِ اِلہِیّہ بھی ہے اور سنت ِ مُصْطَفَوِیَّہ بھی۔سُبْحَانَ اللہ، کیسے پاکیزہ اخلاق کی کیسی نفیس تعلیم دینِ اسلام میں دی گئی ہے۔ ذیل میں مسکینوں اور ما تحتوں کے بارے میں سیدُ المرسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تعلیمات ملاحظہ ہوں۔
(1)…حضرتِ اُمّ بُجَیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں ، میں نے بارگاہِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ایک مسکین میرے دروازے پر آ کر کھڑ اہوتا ہے اور میرے پاس اس کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہوتا (تو میں کیاکروں ) رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اگر تیرے پاس جلے ہوئے کُھر کے سوا کچھ نہ ہو تو وہ ہی اسے دیدے۔ (ترمذی، کتاب الزکاۃ، باب ما جاء فی حق السائل، ۲/۱۴۶، الحدیث: ۶۶۵)
(2)… حضرت ابو مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے۔ غلام نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اور اسے مارنا شروع کر دیا۔ غلام نے کہا: میں اللہ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی پناہ مانگتا ہوں۔ تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’خدا کی قسم! اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر اس سے زیادہ قادر ہے جتنا تم اس پر قادر ہو۔ حضرت ابو مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ پھر انہوں نے اس غلام کو آزاد کر دیا۔ (مسلم، کتاب الایمان والنذور، باب صحبۃ الممالیک۔۔۔ الخ، ص۹۰۵، الحدیث: ۳۶(۱۶۵۹))
(3)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا