طالوت ، جالوت اور حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعہ سے حاصل ہونے والادرس:
طالوت و جالوت اور حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پورے واقعہ میں بہت سے درس ہیں :۔
(1)…ثابت قدمی کم لوگوں ہی کو نصیب ہوتی ہے کیونکہ یہ بہت عظیم خوبی ہے۔
(2)… جہاد سے پہلے آزمائش کرلینا بہتر ہوتا ہے۔ عین وقت پر کوئی بزدلی دکھائے تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔ حالت ِ امن میں فوج کی تربیت اور محنت و مشقت اسی مقصد کیلئے ہوتی ہے۔
(3)…یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی بڑے امتحان سے پہلے چھوٹے امتحان میں سے گزر لینا چاہیے اس سے دل میں قوت پیدا ہوتی ہے۔ گرمیوں میں روزے رکھنا تکلیف دہ ہے تو ہلکے گرم موسم میں روزے رکھتے رہنا چاہیے تاکہ مشق ہوجائے۔ بڑی چیزوں پر صبر کرنا مشکل ہے تو چھوٹی چھوٹی چیزوں پر صبر کا خود کو عادی بنائیں ، سخاوت کرنے سے دل رُکتا ہو تو روزانہ تھوڑا تھوڑا مال صدقہ کرتے رہیں۔ الغرض یہ قرآن کا ایک اصول ہے جو علمِ نفسیات میں بھر پور طریقے سے استعمال ہوتا ہے، اس کے ذریعے اپنے سینکڑوں معمولات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
(4)… مومن کو اسباب مہیا کرنے چاہئیں لیکن بھروسہ اپنے رب تعالیٰ پرہی ہونا چاہیے۔
{لَفَسَدَتِ الۡاَرْضُ: تو ضرور زمین تباہ ہوجائے ۔}یہاں جہاد کی حکمت کا بیان ہے کہ جہاد میں ہزار وں مصلحتیں ہیں ، اگر گھاس نہ کاٹی جائے تو کھیت برباد ہو جائے، اگر آپریشن کے ذریعے فاسد مواد نہ نکالا جائے تو بدن بگڑ جائے، اگر چور ڈاکو نہ پکڑے جائیں تو امن بر باد ہو جائے ۔ ایسے ہی جہاد کے ذریعے مغروروں ، باغیوں اور سرکشوں کو دبایا نہ جائے تو اچھے لوگ جی نہ سکیں۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی تکوینی حکمتیں جاری و ساری ہیں ، ان کو سمجھنا ہر ایک کے بس میں نہیں۔
تِلْکَ اٰیٰتُ اللہِ نَتْلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالْحَقِّؕ وَ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیۡنَ﴿۲۵۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم اے محبوب!تم پر ٹھیک ٹھیک پڑھتے ہیں ، اور تم بیشک رسولوں میں ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو اے حبیب! ہم آپ کے سامنے حق کے ساتھ پڑھتے ہیں اور بیشک تم رسولوں میں سے ہو۔
{تِلْکَ اٰیٰتُ اللہِ: یہ اللہ کی آیتیں ہیں۔} گم شدہ تاریخی حالات اور علوم غَیْبِیَہ کا عطا ہونا حضور پرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نبوت کی دلیل ہے کہ نہ تو آپ نے علم تاریخ حاصل کیا اورنہ مؤرخین کی صحبت میں بیٹھے پھر بھی ایسے درست حالات بیان فرمائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سچے رسول اور صاحب وحی ہیں۔