حکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھادیا اور اگر اللہ لوگوں میں ایک کے ذریعے دوسرے کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین تباہ ہوجائے مگر اللہ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے۔
{فَہَزَمُوۡہُمۡ بِاِذْنِ اللہِ: تو انہوں نے اللہ کے حکم سے دشمنوں کو بھگا دیا۔} جب دونوں لشکر میدانِ جنگ میں آمنے سامنے ہوئے تو جالوت نے بنی اسرائیل سے مقابلہ کرنے والا طلب کیا۔ وہ اس کی قوت وجسامت دیکھ کر گھبرا گئے کیونکہ وہ بڑا جابر، قوی، شہ زور، عظیم الجُثہ اورقد آور تھا۔ طالوت نے اپنے لشکر میں اعلان کیا کہ جو شخص جالوت کو قتل کرے میں اپنی بیٹی اس کے نکاح میں دیدوں گا اور آدھا ملک اسے دیدوں گا مگر کسی نے اس کا جواب نہ دیا۔ طالوت نے حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے عرض کیا کہ بارگاہِ الٰہی میں دعا کریں۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا کی تو بتایا گیا کہ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جالوت کو قتل کریں گے ۔ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے والد ’’ایشا‘‘ طالوت کے لشکر میں تھے اور ان کے ساتھ ان کے تمام فرزند بھی تھے، حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان میں سب سے چھوٹے تھے اور بیمار تھے، رنگ زرد تھا اور بکریاں چرایا کرتے تھے۔ جب طالوت نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کیا کہ اگر آپ جالوت کو قتل کریں تو میں اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیدوں گا اور آدھا ملک آپ کوپیش کردوں گا تو آپ نے اس پیشکش کو قبول فرما لیا اور جالوت کی طرف روانہ ہوگئے۔ لڑائی کی صفیں بندھ گئیں اور حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے دست مبارک میں گوپھن یعنی پتھر پھینکنے والی رسی لے کر جالوت کے سامنے آگئے۔ جالوت کے دل میں آپ کو دیکھ کر دہشت پیدا ہوئی مگر اس نے باتیں بہت متکبرانہ کیں اور آپ کو اپنی قوت سے مرعوب کرنا چاہا، آپ نے اپنی اُس رسی میں پتھر رکھ کر مارا وہ اس کی پیشانی توڑ کر پیچھے سے نکل گیا اور جالوت مر کر گر گیا۔ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے لاکر طالوت کے سامنے ڈال دیا ،تمام بنی اسرائیل بڑے خوش ہوئے اور طالوت نے حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حسب ِوعدہ نصف ملک دیا اور اپنی بیٹی کا آپ کے ساتھ نکاح کردیا۔ ایک مدت کے بعد طالوت نے وفات پائی اور تمام ملک پر حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سلطنت ہوئی۔ (جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۱، ۱/۳۰۸-۳۰۹)
اللہتعالیٰ نے حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حکومت اور حکمت یعنی نبوت دونوں عطا فرمادئیے اور آپ کو جو چاہا سکھایا ، اس میں زرہ بنانا اور جانوروں کا کلام سمجھنا دونوں شامل ہیں جیسا کہ سورۂ انبیاء آیت79، 80میں ہے۔