Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
366 - 520
لیں کہ ان کی اکثریت صدقہ و خیرات سے دور بھاگتی ہے۔ 
{وَاللہُ یَقْبِضُ وَیَبْصُۜطُ: اور اللہ  تنگی دیتا ہے اوروسعت دیتا ہے۔}  آیت کے اس حصے میں میں راہِ خدا میں خرچ کرنے کی فضیلت بیان فرمائی ، چونکہ وسوسہ پیدا ہوتا ہے کہ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے تو اس شبہے کا ازالہ فرما دیا کہ اللہ  تعالیٰ جس کے لیے چاہے روزی تنگ کردے اورجس کے لیے چاہے ،وسیع فرمادے، تنگی و فراخی تواس کے قبضہ میں ہے اور وہ اپنی راہ میں خرچ کرنے والے سے وسعت کا وعدہ کرتاہے تو راہِ خدا میں خرچ کرنے سے مت ڈرو ، جس کی راہ میں خرچ کررہے ہو وہ کریم ہے اور اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں اور جود و بخشش کے خزانے لٹانا اس کریم کی شان ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’ رحمن کا دستِ قدرت بھرا ہوا ہے، بے حد و حساب رحمتیں اور نعمتیں یوں برسانے والا ہے کہ دن رات (کے عطا فرمانے)نے اس میں کچھ کم نہ کیا اور دیکھو تو کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے اب تک اللہ تعالیٰ نے کتنا خرچ کردیا ہے لیکن ا س کے باوجود اس کے دستِ قدرت میں جو خزانے ہیں اس میں کچھ کمی نہیں آئی۔  (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المائدۃ،، ۵/۳۴، الحدیث: ۳۰۵۶)
اَلَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوۡسٰیۘ اِذْ قَالُوۡا لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُّقٰتِلْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِؕ قَالَ ہَلْ عَسَیۡتُمْ اِنۡ کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقٰتِلُوۡاؕ قَالُوۡا وَمَا لَنَاۤ اَلَّا نُقٰتِلَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنۡ دِیٰرِنَا وَاَبْنَآئِنَاؕ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنْہُمْؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ﴿۲۴۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو جو موسٰی کے بعد ہوا جب اپنے ایک پیغمبر سے بولے ہمارے لیے کھڑا کردو ایک بادشاہ کہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں ، نبی نے فرمایا کیا تمہارے انداز ایسے ہیں کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو پھر نہ کرو بولے ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہم نکالے گئے ہیں اپنے وطن اور اپنی