وَ قٰتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ﴿۲۴۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ کی راہ میں لڑواور جان لو کہ اللہ سننے والا، جاننے والاہے۔
{وَ قٰتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ:اور اللہ کی راہ میں لڑو۔} زندگی کی بے ثباتی اور موت کے بیان کے بعد سمجھایا جارہا ہے کہ جب زندگی ایسی ہی ناپائیدار ہے اور کسی بھی صورت موت سے فرار ممکن نہیں توجہاد سے منہ پھیر کر موت سے نہ بھاگو جیسا بنی اسرائیل بھاگے تھے کیونکہ موت سے بھاگنا کام نہیں آتا۔
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗۤ اَضْعَافًا کَثِیۡرَۃًؕ وَاللہُ یَقْبِضُ وَیَبْصُۜطُ۪ وَ اِلَیۡہِ تُرْجَعُوۡنَ﴿۲۴۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے تو اللہ اس کے لئے بہت گُنا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہے کوئی جو اللہ کواچھا قرض دے تو اللہ اس کے لئے اس قرض کو بہت گنا بڑھا دے اور اللہ تنگی دیتا ہے اور وسعت دیتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
{مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا: ہے کوئی جو اللہ کواچھا قرض دے۔} راہِ خدا میں اِخلاص کے ساتھ خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر فرمایا ،یہ اللہ تعالیٰ کا کمال درجے کا لطف و کرم ہے کیونکہ بندہ اُس کا بنایا ہوا اور بندے کا مال اُس کا عطا فرمایا ہوا، حقیقی مالک وہ جبکہ بندہ اُس کی عطا سے مجازی ملک رکھتا ہے مگر قرض سے تعبیر فرمانے میں یہ بات دل میں بٹھانا مقصود ہے کہ جس طرح قرض دینے والا اطمینان رکھتا ہے کہ اس کا مال ضائع نہیں ہوتا اوروہ اس کی واپسی کا مستحق ہے ایسا ہی راہِ خدا میں خرچ کرنے والے کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ وہ اس خرچ کرنے کا بدلہ یقینا پائے گا اوروہ بھی معمولی نہیں بلکہ کئی گنا بڑھا کر پائے گا ۔ سات سو گنا بھی ہوسکتا ہے اور اس سے لاکھوں گنا زائد بھی جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت 261میں ہے۔صدقہ سے دنیا میں بھی مال میں برکت ہوتی ہے اور آخرت میں بھی اجر وثواب ملتا ہے۔ دنیا کے اگر لاکھوں امیر لوگوں کا سروے کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کی اکثریت صدقہ و خیرات بکثرت کرتی ہے اور لاکھوں غریبوں کو دیکھ