مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ ہے کہ نماز میں قیام فرض ہے۔ دوسرے یہ کہ نماز میں کھانا پینا، بات چیت کرنا حرام ہے جیسا کہ ’’قٰنِتِیۡنَ ‘‘ سے معلوم ہوا ۔ نماز میں گفتگو کرنا اسی آیت سے منسوخ ہے۔
(بخاری، کتاب العمل فی الصلاۃ، باب ما ینہی من الکلام فی الصلاۃ، ۱/۴۰۵، الحدیث: ۱۲۰۰)
فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًاۚ فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمْ فَاذْکُرُوا اللہَ کَمَا عَلَّمَکُمۡ مَّا لَمْ تَکُوۡنُوۡا تَعْلَمُوۡنَ﴿۲۳۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر اگر خوف میں ہو تو پیادہ یا سوار جیسے بن پڑے پھر جب اطمینان سے ہو تو اللہ کی یاد کرو جیسا اس نے سکھایا جو تم نہ جانتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر اگرتم خوف کی حالت میں ہو توپیدل یا سوار (جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لو) پھر جب حالت ِاطمینان میں ہوجاؤ تو اللہ کو یاد کرو جیسا اس نے تمہیں سکھایا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔
{فَاِنْ خِفْتُمْ:پھر اگرتم خوف کی حالت میں ہو۔} یہاں دشمن یا درندے وغیرہ کے خوف کی حالت میں نماز کا حکم اور طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر خوف کی ایسی صورت ہو کہ ایک جگہ ٹھہرنا ناممکن ہو جائے تو پیدل چلتے ہوئے یا سواری پر جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لو اور اس نماز کو دہرانا بھی نہ پڑے گا اورجدھر جارہے ہوں ادھر ہی منہ کرکے نماز پڑھ لیں ،قبلہ کی طرف منہ کرنے کی شرط نہیں ہے اور جب حالت ِ امن ہو تو پھر معمول کے مطابق نماز پڑھی جائے البتہ اگر خوف کی ایسی حالت ہو کہ اس میں ٹھہرنا ،ممکن ہو جیسے جنگ کے موقع پر دشمنوں کے حملے کا ڈر بھی ہے لیکن کسی جگہ ٹھہرے ہوئے بھی ہیں تو اس کاباجماعت نماز پڑھنے کا طریقہ سورہ ٔنساء آیت 102میں مذکور ہے۔
وَالَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنۡکُمْ وَیَذَرُوۡنَ اَزْوٰجًا ۚۖ وَّصِیَّۃً لِّاَزْوٰجِہِمۡ مَّتٰعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیۡرَ اِخْرَاجٍ ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ فِیۡ مَا فَعَلْنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ مِنۡ مَّعْرُوۡفٍؕ وَاللہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ﴿۲۴۰﴾