معاملہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ عموماً دونوں فریق جذبہ انتقام میں اندھے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو جان سے مار دینے کے خواہشمند ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ یہاں پر بھی آپس میں حسنِ سلوک کا حکم فرمارہا ہے اور اس میں بھی خصوصاً مرد کو زیادہ تاکید ہے کیونکہ زیادہ ایذاء عام طور پر مرداور اس کے خاندان کی طرف سے ہوتی ہے۔
حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی٭ وَقُوۡمُوۡا لِلہِ قٰنِتِیۡنَ﴿۲۳۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمام نمازوں کی پابندی کرو اور خصوصا درمیانی نماز کی اوراللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہوا کرو۔
{حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ:تمام نمازوں کی پابندی کرو۔} نکاح و طلاق کے مسائل بیان کرنے کے دوران نمازکی تاکید فرمادی ، گویا یہ سمجھانا مقصود ہے کہ بندوں کے حقوق ادا کرتے ہوئے خالق و مالک کے حقوق سے غافل نہ ہوجانا، پنجگانہ فرض نمازوں کو ان کے اوقات پر ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے رہوکیونکہ شریعت کے دیگر معاملات میں حکمِ الٰہی پر عمل اسی صورت میں ہوگا جب دل کی اصلاح ہوگی اوردل کی اصلاح نماز کی پابندی سے ہوتی ہے۔نیز فرمایا کہ تمام نمازوں کی پابندی و نگہبانی کرو ،اس نگہبانی میں ہمیشہ نماز پڑھنا ،با جماعت پڑھنا، درست پڑھنا ،صحیح وقت پر پڑھنا سب داخل ہیں۔ درمیانی نماز کی بالخصوص تاکید کی گئی ہے، درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے جیسا کہ بخاری میں ہے’’نماز وسطیٰ سے مراد عصر کی نماز ہے۔ (بخاری، کتاب الدعوات، باب الدعاء علی المشرکین، ۴/۲۱۶، الحدیث:۶۳۹۶، ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ البقرۃ،۴/۴۶۱، الحدیث: ۲۹۹۴)
نماز عصر کی تاکید کی ظاہری وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ ایک تو اس وقت دن اور رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔
(بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: تعرج الملائکۃ والروح الیہ، ۴/۵۴۹، الحدیث:۷۴۲۹،شرح السنہ، کتاب الامارۃ والقضائ، باب تغلیظ الیمین، ۵/۳۷۰، تحت الحدیث: ۲۵۱۰)
دوسرا یہ کہ اس وقت کاروبار کی مصروفیت کا وقت ہوتا ہے تو اس غفلت کے وقت میں نماز کی پابندی کرنا زیادہ اہم ہے۔
{وَقُوۡمُوۡا لِلہِ قٰنِتِیۡنَ: اوراللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہوا کرو۔} بارگاہِ الٰہی میں کھڑا ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ ادب سے کھڑا ہوا جائے لہٰذا کھڑے ہونے کے ایسے طریقے ممنوع ہوں گے جس میں بے ادبی کا پہلو نمایاں ہو۔اس سے چند