(تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۹، ص۱۰۱ملتقطاً)
سبحان اللہ، کیا سلیم الفِطرت تھے۔ حضرت علی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ اگر شراب کا ایک قطرہ کنویں میں گر جائے پھر اس جگہ منارہ بنایا جائے تو میں اس پر اذان نہ کہوں گااور اگر دریا میں شراب کا قطرہ پڑ جائے پھر دریا خشک ہوجائے اور وہاں گھاس پیدا ہو تومیں اس میں اپنے جانوروں کو نہ چراؤں گا۔(مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۹، ص۱۱۳)
سبحان اللہ! گناہ سے کس قدر نفرت ہے۔ ’’اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
جوئے کے متعلق احکام:
(1)…جوا کھیلنا حرام ہے۔
(2)…جوا، ہر ایسا کھیل ہے جس میں اپنا کل یا بعض مال چلے جانے کا اندیشہ ہو یا مزید مل جانے کی امید ہو۔
(3) …شطرنج تاش ، لڈو، کیرم، بلیئرڈ، کرکٹ وغیرہ ہار جیت کے کھیل جن پر بازی لگائی جائے سب جوئے میں داخل اور حرام ہیں۔یونہی کرکٹ وغیرہ میں میچ یا ایک ایک اوور یا ایک ایک بال پر جو رقم لگائی جاتی ہے یہ جوا ہے، یونہی گھروں یا دفتروں میں چھوٹی موٹی باتوں پر جو اس طرح کی شرطیں لگتی ہیں کہ اگر میری بات درست نکلی تو تم کھانا کھلاؤ گے اور اگر تمہاری بات سچ نکلی تو میں کھانا کھلاؤں گا یہ سب جوئے میں داخل ہیں۔ یونہی لاٹری وغیرہ جوئے میں داخل ہے۔ آج کل موبائل پرکمپنی کو میسج کرنے پر ایک مخصوص رقم کٹتی ہے اور اس پر بھی انعامات رکھے جاتے ہیں یہ سب جوئے میں داخل ہیں۔
{وَ یَسْـَٔلُوۡنَکَ مَاذَا یُنۡفِقُوۡنَ: آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟} تفسیر خازن میں ہے کہ سرکارِدوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے مسلمانوں کو صدقہ دینے کی رغبت دلائی تو صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی: صدقہ کی مقدار ارشاد فرمادیں کہ کتنا مال راہِ خدا میں دیا جائے،اس پر یہ آیت نازل ہوئی (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۹، ۱/۱۵۹)
اور فرمایا گیا کہ جتنا تمہاری حاجت سے زائد ہو ۔ ابتدائے اسلام میں حاجت سے زائد مال خرچ کرنے کا حکم دیا گیا، صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اپنے مال میں سے اپنی ضرورت کی مقدار لے کر باقی سب راہ خدا میں تصدُّق کردیتے تھے۔یہ حکم اگر بطورِ فرض کے تھا تو زکوٰۃ کا حکم نازل ہونے سے منسوخ ہوگیا اور اگر نفلی حکم تھا تو آج بھی مستحب طور پر باقی ہے۔
فِی الدُّنْیَا وَ الۡاٰخِرَۃِؕ وَ یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰیؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّہُمْ خَیۡرٌؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوۡہُمْ فَاِخْوٰنُکُمْؕ وَاللہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِؕ وَلَوْ شَآءَ اللہُ